سہارنپور (احمد رضا): معتبر کلام اللہ شریف اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے سامنے ایک آسمانی معجزہ سے کم نہیں یہ تو پوری دنیا نے جان ہی لیا ہے کہ قرآن کریم حق کی تعلیماتِ پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ کل کائنات کے لئے رحمتِ و برکات کا باعث ہے قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے جو لوگ زاہد اور متقی پرہیز گار بن جا تے ہیں انکی زبان میں اثر اور چہر ے پر نور ہی نور  پیدا ہو جاتا ہے* بس لازم ہے کہ ہم سبھی اللہ رب العزت اور پیارے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں خد کو ڈھال کر اپنی دین اور دنیا کو کامیاب بنائیں. اولیائے کرام کی حکمت قابل اعتماد اور مستحکم ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ* ہزار سال گزرنے کے بعد بھی اولیائے کرام کی آرام گاہیں روشن اور آباد ہیں جہاں سے فیض کا سلسلہ سبھی عقیدے اور مذاہب کے ماننے والوں کے لئے مسلسل جاری ہے حق اللہ  ہر سال کی طرح اس سال بھی خانقاہ زا ہد یہ قادریہ راج شاہیہ اسماعیلیہ سہارنپور شریف اتر پردیش میں حضور غوث الاعظم دستگیر حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی محفل بڑی گیارہویں شریف اور فخر الاولیاء حضرت سید محمد اسحاق صاحب زاہدی قادری راج شاہی رحمۃ اللہ علیہ کا 32 واں عرس پاک بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا محفل کی سرپرستی شہزادۂ حضور فخر الاولیاء حضرت سید محمد غوث معراج صاحب زاہدی قادری راج شاہی نے فرمائی اور قیادت سید نوید انظر، سید جنید سجّاد ، محمّد سعود راج شاہی ، سید محمّد عزیر راج شاہی نے کی محفل کے آغاز میں دوپہر بعد نماز ظہر قرآن خوانی کی گئی پھر بعد نماز عصر حمد و نعت و منقبت پیش کی گئی اور بڑا قل شریف کا اہتمام کیا گیا جس میں پیرزادہ سید محمد حسین زاہدی قادری راج شاہی نے سلسلہ عالیہ قادریہ راج شاہیہ کا شجرہ شریف پڑھا اور دعاء کرائی بعد نماز مغرب لنگر شریف کا اہتمام کیا گیا اور بعد نماز عشاء سے رات بھر میلاد شریف کی محفل ہوئی جس میں جناب شاہد حسن، جناب عابد وفا اور انکی پارٹی نے اور جوالہ پور سے تشریف لائے جناب جمیل احمد اور جناب خسرو الدین اور ان کی پارٹی نے اور فرید نگر شریف سے تشریف لائے جناب امداد میاں راج شاہی ، اور قطب عالم سرکار میاں راج شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بڑی شہزادی  حضرت رابعہ ثانی بوبو جی صاحبہ کے سجّادہ نشین جناب آفتاب عالم راج شاہی ، حافظ شہباز راج شاہی نے اپنے اپنے کلام پیش کۓ تقریباً 4:30 بجے اختتامی ختم شریف ہوا اور 5:00 بجے رخصتی پڑھی گئی جس کے بعد تبرکات تقسیم کیے گئے اور فجر کی نماز کے بعد حاضرین رخصت ہوئے.
اس موقع پر گنگوہ شریف کے نائب سجادہ شاہ علی قدوسی ، رامپور کے سجادہ نشین مدثر حسن ابراہیمی ، درگاہِ جمالیہ سرساوا شریف سے قاضی فہد جمالی نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی ان حضرات کے علاوہ سید سجّاد حسین ، میرٹھ سے سید محمّد جمیل ، شیخ پورہ سے حافظ عبدالستار، حافظ مستقیم صاحب، حافظ محمد احمد، انیس عزیزی، درگاہ حافظ یاد محمد صاحب کے سجاد نشین جناب اشرف صابری ، نسیم زبیری ، شاہد زبیری ، رضوان صابری ، شعیب رحمانی ، محمد مشکور، خورشید صابری، رئیس کمال، صوفی عادل، مدثر ندیمی، مجاہد ندیمی، حبیب شریفی، محمد رضی اللہ، الدھن شریف سے فہیم سلطان، نوئیڈا سے محمد طیب، ممبئی سے مزمّل زبیری، سنبھل سے ثنوَر راج شاہی، محمّد ازمان، عبدالحمید صابری، صفی راج شاہی، محمد حمزہ، محمّد سعید وغیرہ نے شرکت فرمائی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے