ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال علیہ الرحمۃ محتاج تعارف نہیںوہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم ماہر تعلیم اور نامور فلسفی بھی تھے- اسی کے ساتھ ساتھ وہ قوم کے لئے دھڑکتا ہوا دل بھی رکھتے تھے- یہاں تک کہ ان کو اپنی قوم کی تنزلی، انحطاط اور زبوں حالی پر گریہ و زاری کرتے ہوئے کہنا پڑا:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے انسانیت کو خودی اور الله پر کامل بھروسہ رکھنے کا پیغام دیا- وہ قرآن کریم کو شاہ کلید قرار دیتے تھے ،ان کا یہ کہنا تھا کہ قرآن فکر کے بجائے عمل پر زیادہ زور دیتا ہے- چنانچہ انہوں نے فرمایا:
عمل سے زندی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
یہی وہ علامہ اقبال ہیں جنہوں نے ” ترانہ ہند” لکھا تاکہ یہاں قومی اتحاد و یکجہتی کو فروغ مل سکے- ان کی صحیح فکر کی عکاسی اس شعر سے ہوتی ہے-
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا
علامہ اقبال کو ہمیشہ اپنی قوم کی فکر دامن گیر رہتی تھی – حقیقت تو یہ ہے کہ قومی فلاح و بہبود ،علمی و ادبی محاسن، تہذیبی اور تعمیری اقدار کی جامعیت کا دوسرا نام علامہ اقبال تھا- علامہ اقبال کا مذہبی تصور اور قرآن کریم سے ان کا والہانہ شغف جہاں تک ان کے مذہبی تصور اور قرآن کریم سے ان کے والہانہ محبت اور شغف کا تعلق ہے تو باوجودیکہ کہ وہ عصری تعلیم یافتہ تھے لیکن اسلامی شریعت سے سر مو نہیں ہٹے جس کا اندازہ ان کے قیام لندن کے ایام سے لگایا جا سکتا ہے- وہ کئ سالوں تک یورپ میں رہے لیکن مغربی تہذیب ان پر اثر نہ ڈال سکی- وہ اس تہذیب سے اس طرح نکلے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال کو نکالا جاتا ہے-اور ایسا کیوں نہ ہو ڈاکٹر صاحب نے تو ایک صوفیانہ ما حول میں نشوونما پائی تھی اور ان کے والد بزرگوار نے ان کی تربیت بالکل مذہبی اور اخلاقی اصول پر کی تھی، چنانچہ خود ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ جب میں سیالکوٹ میں پڑھتا تھا تو صبح اٹھ کر روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا تھا ،والد مرحوم اپنے اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر آتے اور مجھے دیکھ کر گزر جاتے،ایک دن صبح کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ کبھی فرصت ملی تو میں تم کو ایک بات بتاؤں گا،بالآخر انہوں نے ایک مدت کے بعد یہ بات بتائی اور ایک دن صبح کو جب میں حسب دستور قرآن کی تلاوت کر رہا تھا تو وہ میرے پاس آئے اور فرمایا: "بیٹا! کہنا یہ تھا کہ جب تم قرآن پڑھو تو یہ سمجھو کہ یہ قرآن تم پر ہی اترا ہے ،یعنی اللہ تعالیٰ خود تم سے ہم کلام ہے-” ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک شعر میں بھی اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی ،نہ صاحب کشاف
(اقبال کامل،ص،14) بلاشبہ اگر علامہ اقبال کی پوری زندگی کا صحیح سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان کی زندگی کا اصل محور قرآن کریم ہے- اگر ہم صرف "انسان کامل” اقبال کی نگاہ سے لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اقبال کا انسان کامل دراصل قرآنی نظریہ کا انسان کامل ہے- واقعہ یہ ہے کہ ان کا ” انسان کامل” ایک سچا مسلمان ہے- اور اس کی مثال قرآن کریم نے بہت ہی سادہ ،حکیمانہ اور بلیغ انداز میں اس طرح بیان کیا ہے-” كشجرة طيبة أصلها ثابت و فرعها في السماء”( اس کی مثال ایسے پاک درخت کی ہے جس کی جڑیں جمی ہوں اور شاخیں دور تک پھیلی ہوئی ہوں- "سب جانتےہیں کہ اقبال نے یہی مغربی تعلیم حاصل کی تھی جو ہمارے نوجوان انگریزی یونیورسٹیوں میں حاصل کرتے ہیں ۔ یہی تاریخ ، یہی ادب ، یہی اقتصادیات ، یہی سیاسیات یہی قانون اور یہی فلسفہ انہوں نے بھی پڑھا تھا اور ان فنون میں بھی وہ مبتدی نہ تھے بلکہ منتہی فارغ التحصیل تھے۔ خصوصاً فلسفہ میں تو ان کو امامت کا مرتبہ حاصل تھا ۔ جس کا اعتراف موجودہ دور کے اکابر فلسفہ تک کر چکے ہیں۔ جس شراب کے دو چار گھونٹ پی کر بہت سے لوگ بہکنے لگتے ہیں، یہ مرحوم پورا سمندر پیے بیٹھے تھے ۔ پھر مغرب اور اس کی تہذیب کو بھی انہوں نے محض ساحل سے نہیں دیکھا تھا جس طرح ہمارے ۹۹؍ فیصدی نوجوان دیکھتے ہیں، بلکہ وہ اس دریا میں غوطہ لگا کر اتر چکے تھے ا اور ان سب مرحلوں سے گزرے تھے جن سے گزر کر ہماری قوم کے ہزاروں نوجوان اپنے دین، ایمان، اپنے اصول، تہذیب و تمدن اور اپنے قومی اخلاق کے مبادی تک سے برگشتہ ہو جاتے ہیں حتی کہ اپنی قومی زبان تک بولنے کے قابل نہیں رہتے ۔ لیکن اس کے باوجود اس شخص کا کیا حال تھا ؟ مغربی تعلیم و تہذیب کے سمندر میں قدم رکھتے وقت وہ جتنا مسلمان تھا، اس کے منجدھار میں پہنچ کر اس سے زیادہ وہ مسلمان پایا گیا۔ اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا اتناہی زیادہ وہ مسلمان ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ میں جب پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہوچکا ہے اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی ہی نہیں رہا۔ وہ جو کچھ سوچتا تھا جو کچھ دیکھتا تھا ، قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا۔ حقیقت اور قرآن اس کے نزدیک شے واحد تھی اور اس شے واحد میں وہ اس طرح فنا ہو گیا تھا کہ اس دور کے علماء دین میں بھی مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو فنائیت فی القرآن میں اس امام فلسفہ اور اس ایم اے ، پی ایچ ڈی ، بار ایٹ لا سے مماثلت رکھتا ہو۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ آخری دور میں اقبال نے تمام کتابوں کو الگ کر دیا تھا اور سوائے قرآن کے اور کوئی کتاب وہ اپنے سامنے نہ رکھتے تھے۔ سالہا سال تک علوم و فنون کے دفتروں میں غرق رہنے کے بعد جس نتیجہ پر وہ پہنچے تھے، وہ یہ تھا کہ اصل علم قرآن ہے اور یہ جس کے ہاتھ آجائے وہ دنیا کی تمام کتابوں سے بے نیاز ہے-
ایک مرتبہ کسی شخص نے ان کے پاس فلسفہ کے چند سوالات بھیجے اور ان کا جواب مانگا۔ ان کے قریب رہنے والے لوگ منتظر تھے کہ اب علامہ اپنی لائبریری کی الماریاں کھلوائیں گے اور بڑی بڑی کتابیں نکلوا کر ان مسائل کا حل تلاش کریں گے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لائبریری کی الماریاں مقفل کی مقفل رہیں اور وہ صرف قرآن ہاتھ میں لے کر جواب لکھوانے بیٹھ گئے۔” ( اقبالیات از سید ابو الاعلیٰ مودودی،ص،20-21) یہ بات بلا کسی تردد کے کہی جا سکتی ہے کہ اقبال کے علم و حکمت کا یہی وہ قرآنی سرچشمہ ہے،جس سے زندگی کے سوتے پھوٹے ہیں اور آج بھی اندھیری شب میں بھٹکتے ہوئے راہی اسی آفتاب ہدایت سے کسب نور کر سکتے ہیں اور اپنے ظلمت کدوں کو روشن اور تابناک بنا سکتے ہیں- اقبال کا یہی وہ قرآنی تصور حیات ہے جس نے نگاہ شاعر رنگیں نوا میں جادو بھر دیا ہے، جس سے ساری دنیا مسحور ہے ، چنانچہ فرماتے ہیں
داستان کہنہ شستی باب باب
فکر را روشن از ام الکتاب
جز بقرآں ضیغمی، روباہی است
فقر قرآں اصل شاہنشاہی است
نقش قرآں تا دریں عالم نشست
نقش ہائے کاہن و پایا شکست
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است
جس عظیم شاعر نے اپنے فکر کی آبیاری قرآن جیسی زندہ وجاوید کتاب سے کی ہو اس کے صاحب کتاب سے والہانہ عشق و محبت کا کیا پوچھنا ؟ کس یقین کے ساتھ فرماتے ہیں
دل بہ سلمائے عرب باید سپرد
تا دمد، صبح حجاز از شام کرد
جس نے اپنے آپ کو سلمائے عرب “ رسول اکرم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا تو اس کی شام پر حجاز کی صبح سعادت نمودار ہو گی اس لئے کہ
ہست دین مصطفی دین حیات
شرع او تفسیر آیئن حیات
دین مصطفی زندگی کا نظام ہے اس کی شریعت ائین حیات کی ایک مرتب تفسیر ہے”( اقبال شخصیت اور پیغام از طیب عثمانی ندوی ،ص،107- 108) ڈاکٹر یوسف حسین خاں اپنی کتاب ” روح اقبال” میں رقمطراز ہیں”اقبال کا کلام شعری پیرایہ بیان میں اور جدید علوم کی روشنی میں سراسر قرآن کریم کی تشریح ہے-
اگر مثنوی مولانا روم کو آٹھ سو برس قبل” قرآن در زبان پہلوی” سمجھا گیا تو ہم کلام اقبال کو بھی الف ثانی میں وہی رتبہ دے سکتے ہیں” ممتاز اسلامی اسکالر مولانا سید ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں کہ” علامہ اقبال نے اپنی پوری زندگی قرآنِ مجید میں غور و تدبر و فکر کرتے گزار دی۔ قرآنِ مجید پڑھتے، قرآن سوچتے، قرآن بولتے۔ قرآنِ مجید ہی وہ محبوب کتاب تھی جس سے ان کے سامنے نئے نئے علوم کا انکشاف ہوا۔ اُنہیں ایک نیا یقین، ایک نئی روشنی اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوئی، جوں جوں اُن کا مطالعۂ قرآن بڑھتا گیا، ایمان کے قلزم میں بلندی اور ایمان میں زیادتی ہوتی گئی۔ اُن کے لیے قرآن ہی ایک ایسی زندہ وجاوید کتاب ہے جو انسان کو علمی اور ابدی حیات سے بہرہ ور کرتی ہے۔ وہ ایک ایسی شاہ کلید ہے کہ حیاتِ انسانی کے شعبوں میں سے جس شعبہ پر بھی لگائیے، نئے نئے گوشے وا کر دیتی ہے۔ جس طرح روشنی کا مینار ہے-( نقوش اقبال،ص،51)
الغرض قرآن کریم ہی ثبات و حیات کی اصل بنیاد ہے، اور کچھ نہیں:
بر خود از قرآن اگر خواہی ثبات
در ضمیرش دیدہ ام آب حیات
نگاہ شوق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
علامہ اقبال کی زندگی سے ہم بے حد اور بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کی زندگی محض ایک فرد کی طرح نہیں بلکہ ایک عہد کی فکری، روحانی اور اخلاقی بیداری کی علامت ہے۔ خاص طور پر ہماری نئی نسل کے لیے لازم ہے کہ وہ علامہ اقبال کی حیاتِ جاوداں کا مطالعہ کرے، ان کے افکار و نظریات کو سمجھے، اور خاص طور سے قرآنِ مجید سے ان کے والہانہ تعلق اور گہرے لگاؤ کے بارے میں واقفیت حاصل کرے۔
اقبال نے اپنی فکر و شاعری کے ذریعے قرآنِ حکیم کو نہ صرف سمجھا بلکہ اسے زندگی کا عملی دستور بنایا۔ آج جب کہ ہماری قوم فکری انتشار اور اخلاقی زوال سے دوچار ہے، ایسے وقت میں اقبال کا پیغام مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔ ان کی تعلیمات ہمیں خودی، عزم، ایمان اور عملِ صالح کی دعوت دیتی ہیں ۔ نوجوان اگر اقبال کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یقیناً وہ اپنی شخصیت میں خودداری، غیرتِ ایمانی، اور مقصدِ حیات کا شعور پیدا کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبال جیسی شخصیت صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، جن کی فکر آنے والی نسلوں کو نئی راہیں دکھاتی ہے اور جن کا پیغام وقت گزرنے کے ساتھ مزید تابناک ہوتا جاتا ہے۔
