عبدالغفارصدیقی کی کتاب ’’ قلم گوید‘‘ کی تقریب رونمائی میں دانشوروں کا اظہار خیال

نگینہ۔(ضلع بجنور): عالم دین، آزاد صحافی، معروف ادیب اور کہنہ مشق شاعرعبدالغفار صدیقی (دانش نورپوری) کے مضامین کے مجموعے ”قلم گوید ” کی رسم رونمائی کی تقریب راقم منزل نگینہ میں منعقد ہوئی ،جس کا اہتمام ایجوکیشنل اینڈ سوشل ٹرسٹ بجنورنے کیا تھا۔رسم اجراء کی تقریب میں شہر کے معروف شعراء اور اہل دانش نے شرکت کی ۔جن میںبزرگ شاعر ڈاکٹر محمد داؤد نور، کالم نویس ڈاکٹر شیخ نگینوی، مشہور صحافی اور ماہر تعلیم پرویز عادل ماہی، انٹر نیشنل ہینڈی کرافٹ کے مالک ارشاد ملتانی، گورنمنٹ جونئر ہائی اسکول کے معلم مولانا محمدعرفان فلاحی،ادبی وراثت کے امین ناظر وحید، مشہور معالج اور گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر احتشام نعمانی تشنہ علیگ، صحافی تنویر عالم انصاری، نوجوان شاعراقیموالدین منڈاوری خاص طور پر شریک تھے ۔
اردو کی ادبی شخصیت ڈاکٹر شیخ نگینوی نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ دانش نورپوری کے 78 منتخب مضامین کا یہ مجموعہ مختلف اخبارات میں شائع ہوا ہے جو کہ اہم قومی اور بین الاقوامی مسائل کو مثبت نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ان مضامین کا تعلق ملی ،سماجی اور ملکی و عالمی مسائل سے ہے ۔ان مضامین کی خصوصیت یہ ہے اس میں صرف حالات پر تبصرہ کرنے پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے ،بلکہ حالات کو بدلنے کے لیے لائحۂ عمل بھی تجویز کیا گیا ہے ۔عبدالغفار صدیقی نے اپنی کھلی آنکھوں سے جو دنیا دیکھی اور برتی ہے ،اس کا عکس ان کی تحریروں میں نمایاں نظر آتا ہے ۔ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ان کی یہ کتاب جہاں ان کے علم و معلومات کا خزانہ ہے وہیں ان کے تجربات کا نچوڑ بھی ہے۔

ماہر تعلیم پرویز عادل نے کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مصنف نے بڑی دلیری سے قلم اٹھایا ہے اور اپنی تحریروں میں معاشرتی برائیوں سے نمٹنے کے لیے قابل عمل تجاویزبھی پیش کی ہیں۔ دہلی سے تشریف لائے ہوئے ادیب و شاعرناظر وحید نے دانش نورپوری کو مبارکباد دی اور ان سے خواہش کی کہ وہ قومی مفاد اور عوامی خدمت کے لیے اپنی توانا اور مثبت تحریر کا استعمال جاری رکھیں اور ان تحریروں کو عوامی مفاد کی خاطر ہندی زبان میں بھی منتقل کریں۔ڈاکٹر احتشام نعمانی تشنہ نے تبصرہ کیا کہ عبدالغفارصدیقی کے مضامین ہندوستان اور بیرون ملک کے سینکڑوں اخبارات اور سوشل میڈیا سائٹس پر شائع ہوتے رہے ہیں، جو بجنور ضلع کے لیے فخر کی بات ہے۔قلم گوید سماج کا آئینہ ہی نہیں ،بلکہ مشعل راہ ہے ۔

مولانا محمد عرفان فلاحی نے کہا کہ ان مضامین کی بڑی خوبی بیباکانہ اظہار بیان ہے، جو بات بھی کہی گئی ہے وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہی گئی ہے ،اب ایسے صحافی سماج میں کم ہوتے جارہے ہیں۔صاحب کتاب عبدالغفار صدیقی نے مبصرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گزارش کی کہ وہ کتاب پڑھنے کے بعد ضروری مشوروں سے نوازیں اور قابل توجہ امور کی نشاندہی فرمائیں تاکہ دوسرے ایڈیشن میں اصلاح کی جاسکے۔ تقریب رونمائی کی صدارت ڈاکٹر محمد داؤد ملتانی نور نگینوی نے کی۔ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔اس موقع پر شعراء نے اپنے کلام بھی پیش کئے۔ آخر میں ناظم پروگرام شیخ نگینوی نے مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے