اوقاف کے تحفظ اور امید پورٹل پر رجسٹریشن کے سلسلہ میں ورکشاپ کا انعقاد

لکھنؤ: وقف جائیدادوں کے تحفظ اور متولیانِ اوقاف کو امید پورٹل پر رجسٹریشن کے سلسلے میں عملی رہنمائی فراہم کرنے کے مقصد سے آج جامع مسجد منشی پلیا، اندرانگر میں جماعت اسلامی ہند، شہر لکھنؤ اور مسلم ویلفیئر سوسائٹی کے اشتراک سے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
پروگرام کا آغاز مولانا محمد طاہر مدنی، سکریٹری جماعت اسلامی ہند یوپی مشرق کے تذکیر بالقرآن سے ہوا، جس میںمولانا نے وقف کی شرعی حیثیت اور اس کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مولانامحمد طاہر مدنی نے کہا کہ اوقاف ایک عظیم دینی و سماجی امانت ہے جس کا تحفظ ملتِ اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے ان کے تحفظ اور درست اندراج میں کوتاہی کی تو یہ ملی نقصان کا باعث ہوگا۔
وقف معاملات کے ماہر ایڈوکیٹ آفتاب احمد نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے مختلف پہلووؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد آئندہ وقف کرتے وقت وقف ڈیڈ کا تحریری طور پر پیش کیاجانا ضروری ہوگا جو کہ واقف کی جانب سے بنایا جائے گا۔ پرانے اوقاف جو سروے کے ذریعہ سے یا وقف بورڈ میں رجسٹریشن کے ذریعہ سے دفتر بورڈ میںدرج ہیں، فی الفور ان کو امید پورٹل پر اپلوڈ کیا جائے ساتھ ہی جو اوقاف ابھی تک وقف بورڈ میں درج نہیں ہیں، ساتھ ساتھ انہیں بھی نئے طور سے امید پورٹل کے ذریعہ سے وقف بورڈ میں درج کیا جاسکتاہے۔
انجینئر سید محمد شعیب سابق سی ای او یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ 5 دسمبر تک موجودہ رجسٹرڈ اوقاف کا امید پورٹل پر اپلوڈ کرانا ضروری ہے، جس میں فی الحال کوئی راحت نہیں دی گئی ہے، آئندہ راحت ملے یا نہ ملے ہمیں فوری طور پر اس پر عمل آوری شروع کردینا چاہیے۔ اوقاف جائیدادوں کو امید پورٹل پر اپلوڈ کرانے کے سلسلہ میں ہمیں بیدار ہونا ہوگا اور لوگوں تک اس پیغام کو پہونچانا ہوگا۔
یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے ایکژیکٹیو آفیسر اعجاز احمد اور ایس ایم افضل کاشف نے امید پورٹل پر رجسٹریشن کے طریقۂ کار کی وضاحت کی اور متولیان و ذمہ داران کو درپیش عملی دشواریوں کے حل کے لیے رہنمائی فراہم کی۔
پروگرام میں وقف سیل، جماعت اسلامی ہند یوپی مشرق کی جانب سے ہیلپ لائن نمبر (9569461871) جاری کیا گیا۔ متولیان امید پورٹل پر وقف کی تفصیلات درج کرنے میں آنے والی تکنیکی دشواریوں کے لیے اس نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ آخر میں سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں لوگوں کے سوالات کا ماہرین نے جواب دیا۔ پروگرام کی نظامت ایڈوکیٹ نجم الثاقب خان نے کی۔ اس موقع پر شہر اور اطراف سے بڑی تعداد میں متولیان، سماجی کارکنان، اور نوجوانوں نے شرکت کی۔

مذکورہ اطلاع جماعت اسلامی ہند، شہر لکھنؤ کے شعبۂ میڈیا کے ذریعہ جاری کردہ پریس ریلیز میں دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے