اسکابازار/سدھارتھ نگر (پریس ریلیز): اللہ رب العزت کے فضل و کرم اور نبی کریم ﷺ کے صدقہ و طفیل سے 19 اکتوبر 2025ء بروز اتوار کی شام، بعد نمازِ مغرب ایک روح پرور و ایمان افروز "جشنِ عیدِ میلادالنبی ﷺ” کی عظیم الشان محفل کا انعقاد نہایت شاندار انداز میں عمل میں آیا۔

یہ نورانی و پرکیف محفل محققِ عصر، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ حضرت علامہ مفتی عبدالحکیم صاحب نوری دامت برکاتہم العالیہ کی سرپرستی میں منعقد کی گئی، جو ادیبِ شہیر، عالمِ باعمل حضرت علامہ مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی کی زیارتِ حرمین شریفین (زادہما اللہ شرفاً و تعظیماً) سے مشرف ہو کر وطنِ عزیز واپسی کی مسرت میں ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے ترتیب دی گئی تھی۔

محفل کا آغاز دارالعلوم غوثیہ فیض الرسول، سمرہنا کے مخلص استاذ حضرت حافظ و قاری عبداللہ صاحب چشتی کی نہایت دلنشین تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ان کے خوش الحان لبوں سے جب آیاتِ قرآنی کی تلاوت گونجی تو دل و نگاہ معطر و منور ہوگئے۔

اس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے رنگ بکھر گئے۔ واصفِ شاہِ ہدیٰ حافظ محمد عارف رضا اور مدّاحِ مصطفی ﷺ حضرت حافظ و قاری احمد رضا صاحب ضیائی (مدرس مدرسہ صدیقیہ فیض العلوم، سرجپورہ) نے نہایت پرکیف اور محبت بھری آواز میں نعتیہ نذرانے پیش کیے، جن سے فضا مہک اٹھی اور دل وجد و سرور سے بھر گئے۔

اس کے بعد خطیب ہر دل عزیز حضرت مولانا رضوان اللہ صاحب قادری (مدرس مدرسہ فیض العلوم، امام پور بھٹھیا بازار) نے خطاب فرمایا۔

آپ نے اپنے ولولہ انگیز اور روحانی نکات سے لبریز بیان میں عشقِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور اصلاحِ معاشرہ پر نہایت مؤثر گفتگو کی، جس نے سامعین کے دلوں کو گرما دیا۔

اسی دوران زیارتِ حرمینِ طیبین کی سعادت سے مشرف ہو کر واپس آنے والے حضرت علامہ مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی کی شاندار گلپوشی کی گئی۔

ان کی خدمت میں والدین محترمین، برادرانِ مکرم خصوصاً برادرکبیر حضرت مولانا سراج احمد صاحب قادری علیمی، حضرت مولانا شاہد رضا صاحب نوری، حضرت مولانا رضوان صاحب، حضرت مولانا عبیدالرضا صاحب، حضرت حافظ احمد رضا صاحب، حضرت حافظ عبداللہ صاحب سمیت خانوادۂ نوری و انصاری کے دیگر معززین نے پھولوں کے ہار اور عقیدت کے نذرانے پیش کیے۔

محفل کا حسن اس وقت دوبالا ہوگیا جب مترنم لب و لہجے کے مالک، خوش نوا نعت خواں جناب مجاہد رضا صاحب قادری نے وجد انگیز ترنم میں نعتِ رسول ﷺ پیش کی، جس نے حاضرین کو سرور و انبساط کی دنیا میں پہنچا دیا۔

پھر خطیبِ خصوصی حضرت مولانا شاہد رضا صاحب نوری (پرنسپل دارالعلوم غوثیہ فیض الرسول، سمرہنا) نے نہایت عالمانہ خطاب فرمایا۔

آپ نے "حج و عمرہ کی شرعی و روحانی فضیلت” پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یہ سفر بندگی، عشقِ الٰہی اور روحانی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری دراصل بندے کے قلب میں انقلابِ ایمانی برپا کرتی ہے۔ آخر میں آپ نے حضرت علامہ محمد شمیم احمد نوری مصباحی کو اس سعادتِ عظمیٰ پر دلی مبارکباد پیش کی۔

محفل کے اختتام پر خود حضرت مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی نے نہایت پُراثر کلمات میں فرمایا: "من لم یشکرِ الناس لم یشکرِ اللہ”۔ جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔

آپ نے مزید فرمایا کہ: "اس روحانی سفر کے آغاز سے واپسی تک جن حضرات نے محبت و عقیدت کے ساتھ استقبال، الوداع، دعا یا کسی بھی انداز میں عزت افزائی فرمائی، اور آج اس بابرکت محفل میں شریک ہوئے، میں ان سب کا قلبی شکریہ ادا کرتا ہوں۔”

اس موقع پر آپ نے اپنے سفرِ عمرہ کی مختصر روداد بھی بیان فرمائی، جس کے دوران حاضرین کی آنکھیں نم ہو گئیں اور محفل میں سکون و سرشاری کی فضا قائم ہوگئی۔

نظامت کے فرائض خوش بیان نقیب حضرت مولانا عبیدالرضا صاحب قادری نے نہایت حسنِ ترتیب اور وقار کے ساتھ انجام دیے۔ آخر میں صلوٰۃ و سلام کی پرنور فضا میں دعا کے ساتھ یہ عظیم الشان محفل بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچی۔

یہ اطلاع جناب صغیر احمد صاحب انصاری نے پریس ریلیز کے ذریعے فراہم کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے