مہراج گنج: حضرت مولانا لیاقت علی خان نقشبندی ادام اللہ فیوضکم نے صاحب زادے کے ولیمہ کے موقعہ پر دینی اجتماع کی بنیاد رکھ کر یہ ثابت کردیا کہ ایسے موقعوں پر بھی دین کی باتیں لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ آج انہوں نے علماء کے اجتماع سے یہ پیغام پہونچانے کی کوشش کی کہ علماء کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داریوں کو عوام الناس کے درمیان پہونچانے کی کوشش کریں۔ مولانا علی میاں ندوی نے کہا تھا کہ علماء کو حالات حاضرہ سے عوام کو باخبر کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
اس پروگرام کی نظامت مفتی اشفاق ندوی نے شاندار طور پر انجام دیا۔ یہ پروگرام تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نیاز احمد صاحب کی سرپرستی اور جمعیت علماء گورکھپور کے صدر و جامعہ عربیہ صادقیہ جامع مسجد لوہیا نگر نگر پالیکا پریشد شہر مہراج گنج کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جمعیت علماء کشی نگر کے صدر مولانا سعید احمد قاسمی نے علماء کی ذمہ داریوں پر خطاب کیا، اس کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد حمزہ صاحب خلیفہ مجاز حکیم کلیم اللہ صاحب علیگڑھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ عالم جس نے بڑے بڑے علماء سے بڑی بڑی کتابیں پڑھی ہیں ان کے سامنے اگر کوئی منکر کام ہو اور ٹوکے نہیں تو اس کا مقام کمتر ہو جاتا ہے اور اگر امر بالمعروف کرتا رہے تو اس عالم کا رعب و دبدبہ غالب ہوجاتا ہے اور لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور پھر عوام اس کے معتقد ہوجاتے ہیں۔
اس پروگرام میں مہراج گنج اور گورکھپور کے بے شمار علماء کرام موجود رہے، الحمدللہ۔ ولیمہ کا اہتمام اوم میریج ہال کولہوئی بازار میں تھا لیکن علماء کرام کا اجماع کولہوئی بازار کے مکی مسجد میں منعقد ہوا۔ اس طرح کا پروگرام کرکے مولانا لیاقت علی خان قاسمی نے ایک اچھی بنیاد ڈالی جو دوسروں کے لئے مشعل راہ ہوگی۔
