ہم ہیں درویش بہرحال دعا ہی دینگے
اردو کی بقاء اور بہتری کیلئے اردو سیکھیں اور سکھائیں!
سہارنپور( احمد رضا): "جن کی فطرت میں دغا ہے وہ دغا ہی دیں گے، ہم ہیں درویش بہر حال دعا ہی دیں گے”! بالکل یہی حال ان دنوں اردو تہذیب اور زبان کا ہے۔ اردو زبان کے لاکھوں دشمن ہیں مگر اس کے بعد بھی اردو زبان کی چاشنی پوری دنیا کو محبتوں سے جوڑے ہوئے ہے۔ ہمیں فخر ہے اردو زبان کے چاہنے والوں پر، ادیبوں اور شاعروں پر کہ اردو کے پرچم کو دور دراز تک بلندی تک پہنچانے میں پیش پیش ہیں، الحمدللہ!
گزشتہ شب ادبی تنظیم سُخن شناس کے زیرِ اہتمام فراز زبیری سی اے کے دولت خانہ پر ایک شاندار، پُر وقار، منفرد انداز میں خوبصورت شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ شعری نشست کی صدارت اُستاد الشعراء فخر ادب سکندر حیات کیلا شپوری نے فرمائی اور کامیاب نظامت کے فرائض معروف شاعر اسلم محسن نے ادا کئے۔ پر وقار تقریب میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے سکندر حیات نے اُردو زبان کو زندہ و جاوید رکھنے کیلئے شعری نشستوں کے منعقد کرنے اور اُردو زبان کے رسم الخط عام کرنے پرزور دیا اور کہا کہ ہمارا بیش قیمتی سرمایہ اردو زبان میں موجود ہے اس لئے لازم ہے کہ اردو زبان کی چاشنی کو تازہ رکھا جائے!
شعری نشست کے کنوینر اور ادبی تنظیم سُخن شناس کے بانی شہر کے ابھرتے ہوئے شاعر جناب مرسلین حیدر نے سامعین حضرات کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم جتنے بہتر طریقے سے اپنی انقلابی باتیں اردو زبان کی معیاری شاعری کے ذریعے رکھ سکتے ہیں،اتنا کسی اور ذریعہ سے نہیں رکھ سکتے اردو شاعری لوگوں کے دلوں کو جوڑنے اور دلوں میں محبت کو زندہ کرنے کا کام انجام دے تی ہے اُردو شاعری سے میرا بچپن سے ہی لگاؤ اور مضبوط تعلق رہا ہے اس محبت کے سبب ہی میں نے اب اپنی پوری زندگی اُردو کی خدمت کرنے کا عزم کر لیا ہے میں اردو کی ترقی اور بہتری کے لئے ہر وقت حاضر ہوں! ادبی نشست میں معروف انقلابی سوچ و فکر کے سنجیدہ شاعر اور صحافی ڈاکٹر رئیس کمال نے اپنی بات رکھتے ہوئے فرمایا کہ ” ہم سب اُردو کے چاہنے والوں کو اُردو کے فروغ، اِرتقاء اور بقاء کیلئے کام کرنا چاہئے بس یہی اردو زبان کی بڑی خد مت ہوگی اُردو کو بڑھاوا دینے کے لئے ہمیں اُردو کے اخبارات،رسائل، جریدے خود خرید کر پڑھنے اور عزیز و اقارب کو پڑھوانے چاہیئے، تبھی ہماری یہ شیریں اور پیاری زبان زندہ اور باقی ر کھی جا سکتی ہے ” موصوف نے اُردو کے تئی اپنا نعرہ بلند کیا* اُردو لکھیئے،اُردو بولئے اور اُردو پڑھیئے* ! پر وقار ادبی نشست کا آغاز جناب مستقیم روشن کی نعت پاک سے ہوا یہ شعری نشست رات 10 بجے شروع ہوکر رات 01 بجے اختتام پذیر ہوئی اس
نشست میں بہ غور سنے اور پڑھے گئے شعراء کا ایک ایک شعر قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔۔۔۔
چراغ آنکھوں کے جلتے کہہ گئے اک سرخ آندھی سے
کہ ہم بھی زلزلے ہیں ہم سے ٹکرانے کو کہتی ہے!
(سکندر حیات کیلاشپوری)
سکھانے وہ بھی چلے ہیں نماز کے آداب
کہ جن کو ٹھیک سے آتا نہیں وضو کرنا
(مستقیم روشن)
تیری محفل میں اے ساقی شریکِ جام ہم بھی ہیں
تیری خاطر سہی پر موردِ الزام ہم بھی ہیں!
(ڈاکٹر رئیس کمال)
اُس کے در پہ جب سے میری یہ پیشانی ہوئی
مسئلے بھی حل ہوئے جینے میں آسانی ہوئی!
(اسلم محسن)
ہاتھ اُن سے ملا کے بیٹھ گئے
ہم تعلق نبھا کے بیٹھ گئے
(عابدحسن وفا)
یہ الگ بات پرایا تو پرایا ٹھہرا ورنہ
میں نے اسے اپنوں سے بھی بڑھکر سمجھا
(طاہر امین)
اپنا گھر یہ اپنا نہیں ہے اصلی گھر ہے خاک تلے
خالی ہاتھوں یہ تو سمجھ لو گھر جانے سے کیا ہوا
(انصر سہارنپوری)
مٹنے لگے ہیں آج تعلق کے سلسلے
یہ کون نفرتوں کے نئے بیج بو گیا
(مرسلین حیدر)
کہاں سے لاؤ گے قاصد دہن میرا زباں میری
مزا تو تب تھا کہ تم سنتے زبانی داستاں میری
(ثاقب قاضی)
شعری نشست میں سامعین سلمان صدیقی، محمد فیض، شعیب افضال، محمد دانش، اخلاق بھائی کی شرکت قابلِ ذکر رہی جناب فراز زبیری اور ساتھیوں نے شعراء اکرام کیلئے بہترین ضیافت کا انتظام کیا!