غزل

اکتوبر 29, 2025

میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

نظروں سے پھر تول کے کون گیا؟
کچا چٹھا کھول کے کون گیا؟

اپناعقیدہ چھوڑے گا میں نہیں
سارے عقیدے ڈول کے کون گیا؟

اچھے خاصے دوست تھے ہم سادھو
زہر کانوں میں گھول کے کون گیا؟

جاننا چاہیے ہم کو، ہمارے یہ
تخت وتاج بھی رول کے کون گیا؟

عرصہ ہواکہ تلاش میں ہوں مشغول
قسمت میری مول کے کون گیا؟

بیٹھاہوںمیں گاڑی میں لیکن
جلدی سے پھرٹول کے کون گیا؟

سالہاسال سے عشق تھا، چاہت تھی
جانب پھر ترشول کے کون گیا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے