میرؔبیدری، بیدر۔ کرناٹک

منتخب ہم بھی ہوتے، گر ہوتے
یار دیتے نہ دھوکے، گرہوتے

میرے آباء کی سانس چل رہی ہو
سچ کے وہ ساتھ چلتے ، گرہوتے

شکر کرتے ، کبھی نہ کہتے وہ
کیا مِلا اتنا پڑھ کے، گرہوتے

اور کرم اس کا ہوتا تو دیکھا
ہوتے سائے میں رب کے ، گرہوتے

دیکھتے جاتے چہرہ آقاؐ کا
اور مبہوت ہوتے ، گر ہوتے

ابدی سانسیں ہماری ہوتیں میرؔ
پوچھتے ہیں کہ کیسے ؟ گر ہوتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے