(عبدالمبین منصوری)

سدھارتھ نگر: منگل کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سدھارتھ نگر نے ضلع صدر نشاط علی کی قیادت میں پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارتھ نگر کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں ڈومریا گنج کے سابق ایم ایل اے راگھویندر پرتاپ سنگھ کے ذریعے مسلم خواتین کے خلاف کیے گئے توہین آمیز ریمارکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سدھارتھ نگر کے صدر نشاط علی نے میمورنڈم میں کہا کہ ڈومریا گنج اسمبلی کے سابق ایم ایل اے راگھویندر پرتاپ سنگھ اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو گالی دیتے ہیں۔ انہیں جان سے ختم کروانے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور اکثریتی برادری کو اقلیت پر ظلم کرنے اور قتل کرنے کے لیے اکساتے رہتے ہیں جس سے ان کی مسلم مخالف دشمنی صاف نظر آتی ہے۔ اکثریتی طبقے اور میڈیا کے سامنے ایسی اشتعال انگیز تقریریں معاشرے میں انتشار، عداوت اور دشمنی کو پروان چڑھاتی ہیں۔

 اسی سلسلے میں 16 اکتوبر کو راگھویندر پرتاپ سنگھ نے اکثریتی برادری کو مسلم لڑکیوں کو اغوا کرنے، انہیں محبت کے جال میں پھنسا کر ہندو مذھب اختیار کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے معاشی، سماجی، سیاسی اور قانونی تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔ اس قسم کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے ہاتھ کی کٹھ پتلی ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

میمورنڈم کے ذریعہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ضلع میں امن و امان برقرار رہے۔

اس موقع پر نعیم اختر انصاری، عرفان احمد، شمس تبریز خان، خان رضوان، حاجی سراج الدین، شہباز مستقیم، شمس الدین، صلاح الدین، سلمان، شاداب خان، ریاض خان، اسرار صدیقی، عاقر خان، اعجاز احمد، نذر احمد، معین خان، شفیق الرحمان، شفیق احمد، عبدالرحمن اور بیت اللہ، ریاض و دیگر اراکین بھی موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے