سریاپیٹ 9/نومبر (مشرقی آواز جدید): مسجد اقصی مرک جمعیۃ علماء ضلع سر یا پیٹ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ جلسه تذکره محاسن و اخلاق و اعتراف خدمات عظیم قائد پاسبان ملت حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ سابق  صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش’ سابق ایم یل سی و چیر مین حج کمیٹی متحدہ آندھرا پردیش منعقد ہوا۔ جس کی نظامت سینئر صحافی حافظ خلیل عمر نے کی۔ اور صدارت حضرت مولانا عبد القادر صاحب مدظلہ  صدر جمعیۃ علماء سریا پیٹ نے فرمائی اور پورے جلسہ کی سر پرستی حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب مدظلہ نائب صدر جمیعت صوبہ تلنگانہ کرتے رہے اور داعی کی حیثیت سے مولانا سعید المظفر اظہر صاحب مظاہری جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء ضلع سر یا پیٹ نے جلسہ کی نگرانی فرمائی۔
اس موقع پر مولانا اطہر صاحب نے اپنے کلیدی خطاب میں فرمایا کہ حضرت حافظ صاحب نے  جمیعت کو اس مقام تک لانے کیلئے بے انتہا محنت مشقت اور جہدو جہد کی آج سب لوگ ان کے آخری دور کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے اُن کے ابتدائی مشقتوں کا مشاہدہ کیا۔ اور فرمایا کہ شروع کے ایام میں اُن کے پاس اپنی ذاتی گاڑی تک نہیں تھی بس سے سفر کرتے تھے اور جمیعت کا کوئی نام نہیں جانتا تھا۔ اس لئے اُن کی اولین خواہش تھی کہ گاؤں گاؤں گھر گھر جمیعت  سے وافقیت ہو جائے۔ایک مرتبہ یہاں جمعیت کی ممبر سازی کے لئےتشریف لائے۔ اور دونوں ہاتھوں میں رسیدوں کے تھیلے اٹھائے ہوئے ہیں اور میں خود ہی گاڑی پر بیٹھا یہاں کے سینکڑوں گاؤں لے کر گیا ہوں یہ صرف یہاں کا حال نہیں تھا بلکہ پوری ریاست میں اُن کی محنت کا یہی حال تھا۔ آج دونوں ریاستوں میں شائد ہی کوئی گاؤں ہوگا جو جمعیت سے ناواقف ہوگا ۔مولانا معراج الدین ابرار صاحب مدظلہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ جگہ جگہ حافظ صاحب کےلئے تعزیتی جلسہ اور مدارس ومساجد میں ایصال ثواب  اور ان کا ذکر خیر  اس بات کی شاہد ہے کہ وہ حقیقت میں پاسبان ملت تھے۔
حضرت مولانا شاہ سید احسان الدین صاحب مدظلہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ حافظ صاحب ہی صدر نہیں بنے۔ بلکہ اکابرین نے انہیں اس منصب پر بیٹھایا۔ محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار  الحق صاحب رحمتہ اللہ علیہ حضرت مولانا عبد العزيز صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ حافظ پیر شیر احمد صاحب کو جمیعت کا ذمہ دار بنا دیجئے مولانا عبدالعزیز  صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی کوشش سے وہ صدر بنے اور آخری وقت تک ان اکابرین کی امانت کا لحاظ کرتے رہے ۔
حضرت حافظ پیر خلیق احمد صاحب  نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ والد صاحب کے ہم تمام بھائیوں کو وقتاً فوقتاً جمع کرکے یہ نصیحت فرماتے تھے کے یاد رکھو ہم جو کچھ ہے علما کرام کی جوتیوں کا صدقہ ہے ہمیشہ اس کا خیال رکھنا۔ اور جمیعت کے بارے فرماتے جمیعت کا کام دین کا کام ہے۔ جب کبھی کوئی جمیعت کا پروگرام کرنا ہوتا کوئی رقم نہ ہوتی تو فرماتے پروگرام کرنا ہمارا کام ہے باقی اللہ تعالٰی کی مرضی مولانا عبد القادر صاحب نے فرمایا حافظ صاحب ہر دیندار کا اکرام کرتے خصوصاً علماء کا ہر چھوٹے عالم سے بھی  اکرام سے ملتے یہی تواضع ہے ۔جو اللہ تعالٰی کےلئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کو مقبول بنا دیتا ہے
یہ عظیم الشان اجلاس حضرت  مولانا سید احسان الدین صاحب کی رقت انگیز دعا پر ختم ہوا۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے