5/ دسمبر سے قبل اوقافی جائیدادوں کے اندراج کی مہم 13/ نومبر کو تربیتی پروگرام طئے
ظہیرآباد10/ نومبر (مشرقی آواز جدید): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہدایت پر جاری "وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک” کے تحت مسجد عبدالحکیم جمالی، ظہیرآباد میں بعد نمازِ عشاء ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت مفتی عبدالصبور قاسمی دامت برکاتہم (کنوینر، مسلم پرسنل لا بورڈ ظہیرآباد یونٹ) نے فرمائی۔
اجلاس میں علاقے کے ممتاز علماء کرام، ائمہ مساجد، ملی و دینی تنظیموں کے ذمہ داران کی نمایاں شرکت رہی۔
شرکائے اجلاس میں جناب یوسف صاحب (صدر مسلم ایکشن کمیٹی)، محترم محبوب غوری صاحب، حافظ اکبر صاحب (خازن جمعیۃ علماء ضلع سنگاریڈی)، مفتی خلیل احمد قاسمی، مفتی معین قاسمی، مفتی سراج قاسمی، حافظ اسد، جناب عبد الحق صاحب عبدالحکیم جمالی، جناب محمد معین احمد اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔
اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اُس ہدایت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا جس کے مطابق 5/ دسمبر سے قبل ملک بھر کی تمام اوقافی جائیدادوں (مساجد، مدارس، عیدگاہیں، قبرستان، عاشورخانے، درگاہیں وغیرہ) کو "وقف اُمّید پورٹل (Waqf Ummeed Portal)” پر درج کرانے کی تاکید کی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ایک تربیتی و شعور بیداری پروگرام منعقد کیا جائے، جو 13 نومبر بروز جمعرات، صبح 10 بجے تا نمازِ ظہر، مسجد عبدالحکیم جمالی، ظہیرآباد میں ہوگا۔
اس موقع پر "وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک، تلنگانہ” کی ٹیکنیکل ٹیم کے ماہرین، بشمول جناب عماد الدین صاحب (حیدرآباد) اور جناب عثمان علی صاحب، شرکاء کی رہنمائی کریں گے۔
پروگرام میں پروجیکٹر کے ذریعے وقف اُمّید پورٹل پر اندراج کے عملی مراحل کی وضاحت، سوال و جواب سیشن، اور موقع پر ہی اندراج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ شرکاء کو اپنی متعلقہ اوقافی دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مذکورہ پروگرام میں ظہیرآباد کی مختلف تنظیموں کے علماء و ذمہ داران وقف کی شرعی حیثیت، اس کے تحفظ اور اجتماعی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر حضرت مفتی عبدالصبور قاسمی دامت برکاتہم نے کہا کہ یہ مہم ملتِ اسلامیہ کے لیے نہایت اہم اور حساس نوعیت کی ہے۔ تمام متولیان و ذمے داران اپنی دینی، ملی اور قانونی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے 13 نومبر کے پروگرام میں ضرور شرکت کریں، تاکہ اوقاف کے تحفظ اور اندراج کے اس قومی فریضے میں فعال کردار ادا کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ یہ اجلاس نہ صرف اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے ہے بلکہ ملتِ اسلامیہ کو اپنے آئینی حقوق کے شعور اور دستورِ ہند کے تحفظ کے پیغام سے بھی روشناس کراتا ہے۔
واضح رہے کہ تمام شرکاءِ اجلاس کے لیے طعام کا خصوصی نظم بھی رکھا گیا ہے۔۔۔
