حیدرآباد 20/نومبر(مشرقی آواز جدید): شہر حیدرآباد کے بشیر باغ میں واقع پریس کلب میں علیحدہ تلنگانہ ریاست کی جدوجہد میں حصہ لینے والے کارکنوں کا ایک اہم اجلاس ریاست تلنگانہ کے پہلے یس سی کارپوریشن کے چیئرمین ڈاکٹر پلیمارتھی روی کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پی راملو نیتا صدر جاگو تلنگانہ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ علیحدہ تلنگانہ ریاست کے کارکنوں کو امکنہ اراضی، پنشن، تعلیم، اور روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔سیاست کے میدان میں بھی ترجیح دی جائے گی۔لیکن ان تمام وعدوں پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک میں حصہ لینے والے کارکنوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔250 گز اراضی کا اعلان کیا گیا تھا۔ریاست میں جہاں فاضل اراضی ہے اس میں سے مختص کرتے ھوئے انصاف کریں
۔مزید دیگر قائدین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا ملک کی جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والے آزادی کے بعد 80 فیصد پارلیمنٹ کے ممبران تھے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ 10فیصد بھی علیحدہ تلنگانہ تحریک کے کارکن اسمبلی میں نہیں ہے۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں حصہ لینے والے جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کے طلباء ہیں۔ لیکن آج ان کارکنوں کو سیاست میں حصہ داری، یا کسی بڑے عہدے پر فائز نہیں کیا گیا۔لھذا موجودہ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے علیحدہ تلنگانہ کی تحریک میں شرکت کرنے والے کارکنوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے۔امکنہ اراضی، پنشن، جاری کریں۔تعلیم و روزگار سیاست کے میدان میں بھی ترجیح دی جائے۔واضح رھےکہ اس تقریب میں ریاست بھر سے سیاسی سماجی قائدین کے علاوہ طلباء و علیحدہ تلنگانہ ریاست تحریک کے کارکنان بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔۔۔
