میرؔبیدری،بیدر،کرناٹک
خود سے ہی ہار ہوگئی ہوگی
زندگی بار ہوگئی ہوگی
جس کو چاہت کہیں وہ رُسوابھی
سرِ بازار ہوگئی ہوگی
کوئی اپنا نظر نہیں آتا
چشم ِ نم یار ہوگئی ہوگی
ترے درتک رسائی تھی ہی نہیں
اور اس پار ہوگئی ہوگی
دھوپ سے تھی لڑائی سردی کی
تاردر تار ہوگئی ہوگی
کوئی ابلیس تھا، بڑاشیطان
دشمنی یار ہوگئی ہوگی
پھرملاقات ہوگئی ہوگی
میرؔاک بار ہوگئی ہوگی
