دعوت فکر وعمل: انصر نیپالی
ہاتھ میں دے کر موبائل ڈھارہے ہو خود غضب
مت کہو کہ میرے بچے ہوگئے ہیں بے ادب
جس موبائل فون سے لینا تھا علم ومعرفت
بن گیا ہے آج اخلاقی تباہی کا سبب
چھین لی بچوں کا بچپن اس موبائل فون نے
نہ کہیں معصومیت ہے نہ ہی ہاتھوں میں کتاب
وقت سے پہلے مرے بچوں کو بالغ کردیا
لذت آوارگی بس اک کلک میں دستیاب
فیس بک کے پیار نے لوگوں کو اندھا کردیا
قتل کر دیتا ہے شوہر اپنی بیوی کو جناب
آج میں اپنی تباہی کا گلہ کس سے کروں؟
کردیا ہے اس موبائل نے مرا جینا عذاب
عفت و عصمت کا دامن ہو نہ جائے داغدار
سر پرستو! خواب غفلت سے بھلا جاؤگے کب
بچوں کی کردار سازی پر خصوصی زور دیں
ان کی دینی تربیت ہم سب کرینگے روز وشب
یا الہی میدیا کے شر سے تو ہم کو بچا
دینی غیرت فکری بیداری تو کردے بازیاب
نہ دلوں میں ہے محبت نہ کسی سے واسطہ
آہ موبائل نے انصر کر دیا رشتہ خراب
