میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
چلا میں تو گیا دہشت سے باہر
تمہارا کیا ہوا چاہت سے باہر
نکالا جو گیا تو قد ہوا کم
میں گھلتا ہی رہا اس چھت سے باہر
گزرنا ماں کا کوئی سانحہ تھا
مجھے رونا پڑا رقّت سے باہر
کھڑا ہوں کب سے پاؤں سوجھ بیٹھے
نہیں آتا کوئی ذِلّت سے باہر
چلو ہم دیکھتے ہیں جاہ وقدرت
چلے آؤ تمہیں تربت سے باہر
میاں انکار رب کا لاکھ کردیں
کوئی ہوتا نہیں قدرت سے باہر
مگر تنظیم نے باہر نکالا
کوئی ہوتا ہے خود ملّت سے باہر
نہیں دیکھی کوئی ماں ایسی بدبخت
کرے گی اپنے کو عظمت سے باہر
مجھے تم عشق کا دیوتا نہ سمجھو
نکل آؤں گا میںشدّت سے باہر
نہ جانے کتنی روحیں مل ہی جائیں
کوئی جیتابھی ہے خلوت سے باہر
وہ مدت ختم ہونے سے رہی میرؔ
مجھے لگتا ہے، ہوں خلقت سے باہر
