عبدالمبین منصوری

سدھارتھ نگر: ہفتہ کی شام شہر کے ایک مقامی ہوٹل میں ضلع کے معروف صحافی قطب اللہ کی شان میں ایک سیمینار اور مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ سیمینار میں لکھنؤ اور اطراف کے صحافیوں نے شرکت کیا اور مقررین نے مشہور و معروف مرحوم صحافی قطب اللہ کے اُسوئے حسنہ اور اُن کے طرززندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

مقررین نے اپنے بیان میں کہا کہ مشہور و معروف صحافی قطب اللہ بڑھنی قصبہ دودھونیہ کے مقیم تھے اور وہ اردو صحافت میں نمایاں مقام حاصل رکھتے تھے۔ ان کا تقریباً ایک سال قبل لکھنؤ میں اچانک انتقال ہوگیا۔ انہیں کی شان میں ایک سیمینار اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا شمیم رحمانی، عبدالقیوم، عبدالوہاب، راشد خان اور سدھارتھ یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر عبدالحفیظ نے بھی اپنی کاوشوں اور شرکت سے پروگرام میں چار چاند لگانے کا کام کیا۔

مشہور صحافی نظیر ملک نے اردو زبان اور ادب کو صرف کسی ایک خاص طبقے کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مذہبوں اور مختلف زبانوں کے ماننے، پڑھنے اور لکھنے والوں کے لیے بھی خاص فہم زبان بنائے جانے پر زور دیا۔

سیمینار کی نظامت مولانا توقیر ذکی نور نے کیا۔

اس کے بعد ایک مشاعرہ منعقد کیا گیا جس میں علاقائی شعراء اور شاعرات کے علاوہ بستی، گورکھپور اور مہاراج گنج ضلع کے شعراء نے اپنی اپنی تخلیاقت اور اشعار سے اُنہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

 شعراء میں خاص طور سے نصرت عتیق، ڈاکٹر جاوید کمال، ڈاکٹر ایف رحمن، سنگھ شیل جھلک، شیو ساگر سحر، جاوید سرور، ایڈوکیٹ شاداب شبیری، آفتاب آس، نوین شکلا، سلونی اپادھیائے وغیرہ نے اپنی اپنی شاعری سے دیر شب تک سامعین کو محظوظ کرتے رہے۔

 مشاعرہ کی نظامت معروف شاعر ڈاکٹر کلیم قیصر نے کیا اور صدارت معروف شاعر جمال قدوسی نے کیا۔ پروگرام کا اہتمام نجب النساء میموریل ٹرسٹ آف لکھنؤ نے اردو اکادمی لکھنؤ کے اشتراک سے کیا گیا۔ جس میں شیو ساگر سحر، ایڈوکیٹ شاداب شبیری اور سنگھ شیل جھلک نے مقامی سطح پر پروگرام کے انعقاد میں اپنا اپنا خاص اور نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون اور خدمات فراہم کیا۔

دیر شب تک چلے مشاعرہ میں سامعین کے طور پر ضلع کے مشہور اور سینئیر صحافی نظیر ملک، محمد فاروق، مولانا ابو الکلام آزاد ندوی، عطاءاللہ، منوج کمار بھگوان، سلیم اختر وغیرہ کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے