میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
جنگ وجدال یاد رَکھا جا رہاہے کیا
ماحول ’’رائٹ پاتھ‘‘ ہوا جا رہاہے کیا
منصوبہ تیرا ہم کو اگر مارتا نہیں
دشمن ترا نشانہ خطا جا رہا ہے کیا
لگتا ہے زندگی کے سفر میں نہ آئیں گے
اس واسطے ہمیں کو رکھا جارہاہے کیا
دنیا کو چاہنے میں لگے ہیں اداس لوگ
دنیا کاپیاسا وہ بھی ہُوا جارہاہے کیا
جب چاہتے سبھی ہیں محبت نشان کو
بتلانے سے ہماراپتہ جارہاہے کیا
کچھ ڈال دیتے ہیں یہ ندی جیسے لوگ میرؔ
جھولی سے اپنی یارمزا جارہاہے کیا
