انڈین فرینڈ سرکل – ریاض کی ماہانہ نشست میں پیش کی گئی طرحی غزل قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ایڈیٹر)۔
عبد الرحمٰن راشد عمری
آنکھوں میں اپنی خوف کا منظر لیے ہوئے
"یوں پھر رہا ہے کانچ کا پیکر لیے ہوئے”
تشنہ لبی سے ہوگیا بالکل نڈھال جسم
کیا فائدہ ہے دل میں سمندر لیے ہوئے
جس نے بچھائےخار ہیں گلشن میں ہرطرف
پھرتا ہے ہر سو امن کا دفتر لیے ہوئے
آلام زندگی ہی میں الجھا ہوا ہوں میں
اپنے گھڑے ہیں جشن کا منظر لیے ہوئے
کردار نے کیا ہے عدو کو بھی سرنگوں
آئیں گے کل کو پھر وہی کوثر لیے ہوئے
راشد یہ کار خیر ہے عیبوں کا ڈھانپنا
رب بھی ملے گا رحم کی چادر لیے ہوئے
