دوحہ (علی اشہد اعظمی): بزمِ اردو قطر، جو دوحہ کی قدیم، فعال اور معتبر ادبی تنظیم ہونے کا اعزاز رکھتی ہے، نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے مقصد کے تحت 26 دسمبر 2025 کو لا میزون ہوٹل، بن محمود میں ایک شاندار عالمی مشاعرہ منعقد کیا۔ یہ مشاعرہ نہ صرف بزمِ اردو قطر کی ادبی روایت کا تسلسل ثابت ہوا بلکہ قطر کی ادبی فضا میں ایک یادگار سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر گیا۔
مشاعرے میں برصغیر ہند و پاک سے تشریف لانے والے ممتاز شعرا شکیل اعظمی، افضل الہ آبادی، دل خیرآبادی، رعنا تبسم، فراز ادیبی، صباحت عروج اور خالد ندیم شانی نے شرکت کی اور اپنے فکر انگیز، فنی طور پر پختہ اور دل نشیں کلام سے سامعین کو مسحور کر دیا۔ شعرا کے کلام پر بار بار داد و تحسین کی گونج سنائی دیتی رہی۔
قطر میں مقیم مقامی شعرا نے بھی بھرپور شرکت کی، جن میں راقم اعظمی، احمد اشفاق، عتیق انظر، اشفاق دیشمکھ، عزیز نبیل، آصف شفیع، مقصود انور مقصود اور ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی دانش شامل تھے۔ مقامی شعرا کے کلام میں وطن سے دوری کا احساس، تہذیبی وابستگی اور سماجی شعور نمایاں رہا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔
مشاعرے کا آغاز حافظ معظم ندوی کی خوش الحان تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد بزمِ اردو قطر کے مشیر محمد اطہر نے تنظیم کا تعارف پیش کیا اور اردو زبان کے فروغ میں بزم کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ ابتدائی نظامت احمد اشفاق نے انجام دی، جب کہ باقاعدہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی دانش نے نہایت خوش اسلوبی سے نبھائے۔
مشاعرے کی صدارت جاوید دانش (کینیڈا) نے کی، جنہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں اردو کی عالمگیریت اور بزمِ اردو قطر کی مسلسل جدوجہد کو سراہا۔ مہمانِ خصوصی عیسیٰ سلمان جمعہ ربیعہ الکواری تھے، جنہوں نے اردو زبان و ادب سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے بزمِ اردو قطر کو کامیاب مشاعرے پر مبارکباد پیش کی۔
مشاعرہ ابتدا سے اختتام تک شائقینِ ادب کی توجہ کا مرکز رہا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور نشستیں کم پڑ گئیں، تاہم حاضرین نے کھڑے ہو کر بھی مشاعرہ سنا۔ پروگرام کی کامیابی میں بزم کی مجلسِ عاملہ کے ساتھ احمد اشفاق اور راقم اعظمی کی انتھک محنت نمایاں رہی۔
اس ادبی تقریب کو ڈانڈی، کیوبیک، ٹی این جی، الصیادون، اسمارٹ لائن سمیت مختلف اداروں کی اسپانسرشپ حاصل رہی۔ دوحہ کی ممتاز ادبی شخصیات گوہر الطاف، تنویر شیخ، ابراہیم خان کمال اور دیگر اہلِ قلم کی موجودگی نے مشاعرے کی وقعت میں اضافہ کیا۔
آخر میں صدرِ مشاعرہ نے منتظمین، شعرا، سامعین اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بزمِ اردو قطر آئندہ بھی اردو ادب کی خدمت اسی جذبے سے جاری رکھے گی۔
