محمدیوسف رحیم بیدری

ا۔ بداسلام 
مجھے ناک پر غصہ ہرگز بھی نہیں تھا۔بہت ٹھنڈے مزاج کاآدمی ہوں لیکن جب بات سرسے اونچی ہوجائے تو غصہ آنافطری بات ہے۔ لہٰذا میں غصہ میں تھااور وہ گدھے کو میں نے اپنے دفتر میں طلب کیاتھا۔ گدھا آیا، مسکرایا ، پھر سلام کیا اور میرے سامنے بیٹھ گیا۔ میںنے پوچھا ’’یہ کیا بکتے پھر رہے ہو؟‘‘ اس نے میری جانب معصومیت سے دیکھااور پوچھا’’میںسمجھا نہیں ‘‘میرے غصہ میں اضافہ ہوگیا لیکن اس گدھے کی بات بھی واجبی تھی۔ میں نے اس کو بتایاہی نہیں کہ کون سی بات بکتے پھر رہے ہو۔ میں نے کہا’’سنا ہے کہ ’’بداسلام ‘‘ نامی نئی اصطلاح تم نے نکالی ہے ؟‘ ‘اس نے ایک ٹھنڈی سانس چھوڑتے ہوئے کہا ’’اچھاوہ بات ۔۔۔۔‘‘پھر اس نے زیرلب مسکراتے ہوئے کہا’’بھائی صاحب ، وہ بات یہ ہے کہ برے ہی نہیں بدترین قماش کے لوگ جب اسلام سمجھاتے ہوئے داعی بن جاتے ہیں تو ان کے ذریعہ سامنے آنے والا اسلام ’’بداسلام‘‘ کہلاتاہے میرے نزدیک ‘‘
میںبھی کہناچاہتاتھا’’تم ہوتے کون ہویہ سب طئے کرنے والے ‘‘ لیکن خاموشی سے سنتارہا۔ اندرہی اندر غصہ تھا، کم نہیں ہورہاتھا۔وہ بتارہاتھاکہ ’’آپ نے غیراسلامی کام وغیرہ سنا ہوگا، جیسے پوجاکرنا ایک غیراسلامی عمل ہے لیکن جو غلط کام اسلام کے نام پر کیاجائے گاوہ میرے نزدیک بداسلام ہے ۔ مثال کے طورپربے پردہ گھومنا ، یااپنی لڑکیوں کو فیشن کے نام پر یا’’ زمانہ ہی ایسا ہے‘‘ کہہ کر بے پردگی کے عذاب میں ڈھکیلنا ، یہ بداسلام کی مثالیں ہیں ۔ کچھ لوگ اعلیٰ تعلیم کے نام پر اپنی لڑکیوں کوبے پردہ کررہے ہیں، یہ بداسلام نہیں تو اور کیاہے۔ کچھ لوگ اعلیٰ تعلیم کے نام پر یاپھر دین کی دعوت دینے کے نام پر اپنی لڑکیوںاور بیویوں کوخود بے پردہ کررہے ہیں۔ یہ بداسلام نہیں تو اور کیاہے ‘‘
’’تم کہنا کیاچاہ رہے ہو؟‘‘میں نے پوچھا، میراپارہ تو چڑھا ہواتھا۔ اس نے کہا‘‘سر، میں یہ کہناچاہ رہاہوں کہ بداسلام والے ایک دن اسلام کو کھاجائیں گے ۔کل یہ بات عام ہوجائے گی کہ سودلینا چاہیے بلکہ اسلام سود لینے کی بات کرتا ہے ۔ آج سارے بینک اور فائنانس کے چھوٹے موٹے ادارے سود لیتے ہیں ہمیں بھی سود ی کاروبار سے اسلام نہیں روکتا کیوں کہ جس شکل کے سود کو منع کیاگیاتھا وہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے کاقبائلی مزاج سود تھا۔ آج والے بین الاقوامی ، ملک گیر سطح کے اور بڑے بڑے شوروم میں بیٹھ کر وصول کئے جانے والے سود کو منع کرنے کے لئے نئے بین الاقوامی طاقتورترین نبی کی ضرورت ہوگی ‘‘میں اس کی باتوں سے کنفیوژن میں مبتلا ہوگیا۔ چائے آگئی تھی ، ہم دونوں چائے پینے لگے ۔ میر اغصہ بھی جانے کیوں کم ہوتاجارہاتھا۔ میں خاموش تھااور وہ چائے پیتے ہوئے بڑھ بڑھ کر کچھ نہ کچھ بولے جارہاتھالیکن میرادماغ ادھر’’بداسلام، بداسلام ‘‘ کی گردان کررہاتھا۔چائے غالباً پھیکی اور بدمزہ تھی۔
۲۔ ہونٹوں کو پردہ چاہیے
نقی عالم حسین کاواٹس ایپ تھا کہ ’’ان ہونٹوں کو پردہ کرنے کے لئے کہیں ‘‘ میں سمجھ ہی نہیں پایاکہ وہ کیاکہہ رہے ہیں۔ ایک عدد اس گذارشی حکمنامہ کے ساتھ ایک خاتون کی اسکارف باندھی ہوئی تصویر بھی انھوںنے روانہ کی تھی۔ میں نے فون کرنے کے بجائے ان سے واٹس ایپ پر ہی پوچھ لیا’’آپ کیا کہہ رہے ہیں، میںسمجھ نہیں سکا حالانکہ میں بدھو بھی نہیں ہوں ‘‘دوگھنٹے تک جواب موصول نہیں ہوا۔اس دوران پانسات دفعہ میں نے واٹس ایپ چیک کرلیاتھا۔ پھر میں اپنی روزمرہ کی مصروفیت میں لگ گیا۔ رات جب گھر پہنچا اور کھاناکھانے کے بعد بستر پر پہنچ کر واٹس ایپ چیک کررہاتھاکہ نقی عالم حسین کا پیغام نظر آگیا۔ انھوں نے جواباً لکھاتھا’’تم بدھونہیں ہو، یہ میں کہناچاہیے تھا۔دراصل تم بدھواس لئے ہوکہ یہ خاتون تمہارے پٹیل قبیلے سے ہے اور اس نے جو تصویر اخبار میں شائع کروائی ہے ، اس میں اس کے چہرے سے زیادہ اس کے سرخ ہونٹ نمایاں ہیں۔ چوں کہ خاتون موٹی بھی ہیں اسلئے ان کے چہرے سے زیادہ ان کے ہونٹ ان کی شخصیت پر چھائے ہوئے ہیں‘‘
پھر انھوںنے ان خاتون کی مکمل تصویر علیحدہ سے ارسال کرتے ہوئے تین گھنٹہ پہلے لکھاتھا’’تراشے پر یہ تو نہیں لکھ سکتاتھاکہ ان خاتون کو پردہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ خاتون پردہ کرنا نہیں چاہتیں۔ اس لئے میں نے سوچا،اُن کے سرخی لگائے ہوئے ہونٹوں کوتو پردہ کرنے کاحق ہے۔ ورنہ ۔۔۔۔۔ بدنظرتو سوشیل میڈیا پر ہرآن گھومتے ہی رہتے ہیں ‘‘
میرا سرچکراکررہ گیا۔ میں سوچ رہاتھاکہ ’’کیااب پردہ کرنے کے لئے کہنا بھی سماج میں فرسود ہ سمجھاجارہاہے؟چہرے کے بجائے ہونٹوں کاپردہ کرنے کی تلقین کرنا ہماری مجبور ی ہے یا جدت پسندی؟‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے