فارغین طلباء کو سند حدیث اور مطالعہ تصنیفات مولانا سعید الرحمن اعظمی کا اجراء
لکھنؤ: قرآن کریم اللہ کی مقدس کتاب ہے، ان کے ذریعہ دنیا میں انقلاب آیا ہے ، اس نے اصلاح فرد کے ساتھ اصلاح معاشرہ کا کام کیا، قرآن ایک مؤثرکتاب ہے، جو اگر پہاڑوں پر اترتی تو پہاڑ پاش پاش ہو جاتا، لیکن انسان کے قلب پر اللہ نے اس کو ا تارا، اوروہ اس کی دنیا و آخرت میں ہدایت کا ذریعہ ہوا، قرآن کریم کا عجاز ہے کہ اس کو ایک چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی یاد کر لیتا ہے، اور جو بھی قرآن سے وابستہ ہوگا اللہ کی نگاہ میں قابل ذکر ہوگا ۔
ان خیالات کا اظہار ناظم ندوۃ العلماء مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں منعقد ایک سادہ تقریب میں کیا ،واضح رہے کہ اس موقع پرمحمد حسان بن مولانا ڈاکٹرمحمد فرمان ندوی متعلم شعبہ حفظ دار العلوم ندوۃ العلماء نے قاری محمد طیب اطہر ندوی کی نگرانی میں قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا ہے، اس موقع پر متعلم محمد حسان نے قرآن کریم کی آخری اورابتدائی آیات کی تلاوت کی ، اور محمد شفیق چودھری کارکن پیام انسانیت کے لڑکے نے بھی تکمیل حفظ قرآن کی۔
پروگرام کی خصوصیت یہ رہی کہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء تقریبا آٹھ مہینے کے بعد اسی تقریب کے لئے ندوہ تشریف لائے، طلباء دار العلوم میں غیر معمولی جوش و خروش نظر آیا ، طلباء نے ان سے اجازت حدیث حاصل کی، اوائل صحا ح ستہ میں صحیح بخاری کی پہلی حدیث حاطب بن محمد حنیف ، صحیح مسلم کی پہلی حدیث محمد یاسر، سنن ابی داود کی پہلی حدیث عبد اللہ مجاہد، جامع ترمذی کی پہلی حدیث رحاب بن محمد، سنن نسائی کی پہلی حدیث یوسف حسن ، اور سن ابن ماجہ کی پہلی حدیث محمد اسماعیل نے پیش کی اور حضرت مہتمم صاحب نے حدیث شریف پڑھنے پڑھانے کی اجازت دی۔
اسی کے ساتھ مطالعہ تصنیفات مولانا سعید الرحمن اعطمی ندوی کا اجراء بھی عمل میں آیا، جس کو انجمن الاصلاح معہد القرآن کے طلباء نے تیار کیا ہے ، اس کے مرتبین عبید اللہ معاذ، اور انظار الحق ہیں، یہ کتاب ۱۴۰صفحات پر مشتمل ہے، اور اس کی نگرانی قاری محمد ریاض مظاہری اور مولانا محمد فرمان ندوی نے کی، اور بحمد اللہ آٹھواں مجموعہ ہے، جو اس انجمن سے مطالعہ تصنیفات کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔
اس موقع پر مولانا سید عمار حسنی ندوی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی، پروفیسر سید وسیم اختر، مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی، ڈاکٹر اسلم صدیقی، مولانا محمد علاء الدین ندوی، مولانا خالد ندوی غازیپوری، مولانا کمال اختر ندوی، ڈاکٹر فوزان اختر وغیرہ اساتذہ دار العلوم موجود تھے۔
