ملک میں میڈیم درجہ کا عوام خون کے آنسو رونیکو مجبور!
سہارنپور( احمد رضا ): شاید ملک کی عوام بلخصوص حزب مخالف سیاسی جماعتیں کمزور اور ڈرپوک ہوگئی ہے اسی لئے ہمارے لوگ گزشتہ سال 2014 سے سرکاری مشینری کے دباؤ میں آکر منہگائی اور بیروزگاری کے خلاف زبان کھولنے سے کترا رہے ہیں بیروزگاری کے سبب گھروں میں تکرار اور تناؤ صاف دیکھنے کو مل رہا ہے ضروری دوائیاں حاصل کرنا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے یعنی کہ ہر ضروری اشیاء مہنگائی کے کرب سے نڈھال ہے دو وقت کا کھا نہ عام لوگوں کی پکڑ سے باہر نکل گیا ہے کم آمدنی اور بڑھتی مہنگائی نے ملک کے 80 فیصد عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے سونا 2012 میں 33 ہزار روپیہ فی دس گرام بک رہا تھا چاندی 37 ہزار روپیہ فی کلو بک رہی تھی آج سونا ایک لاکھ 76 ہزار روپیہ فی دس گرام جبکہ چاندی 4 لاکھ روپیہ فی کلو بک رہی ہے مگر کوئی اس رلا دینے والی منہگائی سے خائف نہیں کہیں سے مہنگائی اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند نہیں ہو رہی ہے وجہ یہ ہے کہ ملک کے شدت پسند تنظیموں کے لوگوں کو دھرم کے نشہ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ملک کا ہندو شدت پسند گروپ مسلم افراد کو ذلیل وخوار کر رہا ہے۔ اعلانیہ مسلم آبادی کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سب کچھ دیکھتے ہوئے سرکار خاموش ہے، سرکاری مشینری ظالم افراد کی پشت پناہی میں سرگرم ہے، شدت پسند ہندو گروہ مسلم آبادی، مزارات، مسجدوں اور مدرسوں پر حملہ کر کے ان کو نقصان پہنچا کر خوشی کا اظہار کر تے ہوئے سڑکوں پر ناچ گا رہا ہے۔ اعلانیہ مسلم گھروں، مساجد اور مزارات پر بلڈوزر چلا کر ان کو زمین بوس کیا جا رہا ہے، لگاتار مسلم آبادی کی تباہی پر شدت پسند تنظیموں کے لوگ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے جشن مناتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ملک میں آنے والے اقتصادی بحران سے یہ سبھی انجان ہیں۔ منہگائی اور بیروزگاری کے خلاف سب کی زبان خاموش اور آنکھیں بند ہیں یعنی کہ منہگائی اور بیروزگاری کا کینسر کسی کو دکھائی نہیں دے رہا ہے، ملک میں پھیلے ہوئے یہ شدت پسند گروپ کے افراد مسلم طبقہ کو ذلیل و خوار اور ہلاکت کے دل دل میں دھکیل کر بہت مست بنے ہوئے ہیں، سب کے لئے منہگائی اور بیروزگاری کوئی مسئلہ نہیں، سنگین مسئلہ اور خطرہ تو شدت پسند تنظیم کے افراد کو صرف اور صرف مسلم طبقہ کے سکون، راحت، مذہبی آزادی، نماز، اذان، مزارات، مسجدوں، مدارس اسلامیہ اور حجاب سے ہے، مسلم طبقہ سے دشمنی کے غم میں یہ دس فیصد بھگوا شدت پسند لوگ ذلیل اور بد سے بد نام ہو رہے ہیں! لوگوں کے لئے بہت خطرناک خبر ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد سے سونا چاندی اب تک کی سب سے اونچی پائیدان پر قائم ہے، سونا ڈیڑھ لاکھ روپیہ فی دس گرام اور چاندی تین لاکھ روپیہ کلو پر قائم ہو گئی ہے۔ منہگائی پچھلے سال سے سونے اور چاندی کی شکل صورت میں انسانوں کے دل و دماغ کو بری طرح سے مجروح کر چکی ہے، غریب عوام کے لئے سونا چاندی خریدنا مشکل سے مشکل ترین ہو گیا ہے لیکن دکھ یہ ہے کہ مسلم طبقہ کی نفرت اور حسد میں سرکار اور دہشت پسند ہندو گروہ آج بھی اطمینان کے ساتھ سانسیں لے رہا ہے پوری آبادی خون کے آنسو بہا نے کو مجبورِ ہے مگر سرکار مسجد ، مدارس اور مزارات کو بلڈوز کرنے میں سرگرم ہے نہایت دردناک کہانی ہے کہ ملک کا ہندو طبقہ اس مہنگائی کے موضوع پر سانسیں روک کر بیٹھا ہوا ہے مگر یہ وارننگ یاد رکھیں کہ کچھ عرصہ بعد بھگتوں کے سر سے جب نفرت اور حسد کا کینسر نما بخار اتر یگا تو یہ ہندو مسلم کرنیوالے صف در صف کھڑے ہو کر ماتم کرنے پر مجبور ہو ں گے مہنگائی کی مار بد ترین مار سے مسلم طبقہ متاثر نہی ہوگا مہنگائی کا کینسر ملک کی اکثریت کو گہرائی تک نگل جائیگا !

سینئر ایڈوکیٹ محمد علی ملک کے حالات حاضرہ پر یوں تو کچھ اپوزیشن لیڈر ، جج ، صحافی اور معزز وکلا بار بار وارننگ دے رہے ہیں کہ بیدار ہو جاؤ تباہی تمہارے سرہانے آن کھڑی ہے ! غور طلب ہے کہ اپوزیشن قائد راہل گاندھی بھی مسلسل اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ رہے ہیں کہ عاجزی و انکساری ہی لوگوں کو سمجھنے اور ان کا احترام کرنے کا جواب ہے،ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ملک میں برسر اقتدار لوگوں کی جانب سے جمہوریت پر خطرات کے بادل منڈ لار ہے ہیں اور یہاں کی جمہوریت خطرے میں ہے،تمل ناڈو کے پہاڑی علاقے میں واقع ایک نجی اسکول میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اس معلوماتی دور میں آئی ٹی،اے آئی، روبوٹکس، ڈیٹا اور بیٹا سمیت تمام معلومات دستیاب ہیں،اس کیمپس کو خوبصورت ماحول میں ایک خوبصورت اسکول اور ایسے ماحول میں غیر معمولی تعلیم قرار دیتے ہوئے مسٹر راہل نے طلبہ کے ساتھ بات چیت کے دوران، ان سے پوچھا کہ ان کا اچھا استاد کون ہے؟ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ ڈاکٹر عالیہ ٹیچر ہیں،جب گاندھی نے طالب علم سے پوچھا کہ وہ ایک اچھی ٹیچر کیوں ہے؟ تو اس نے کہا کہ وہ پیار اور محبت سے پڑھاتی ہیں اور ہمیں مہربانی کے ساتھ اپنے مضامین سمجھاتی ہیں، معلومات اور علم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کانگریس رہنما نے کہا کہ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس طرح کے ماحول کی ضرورت ہے، محبت اور احترام کا ماحول،ایک دوسرے کو سننے کا ماحول اور مہربانی کا ماحول، انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسا ہندوستان تیار کرنا چاہتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بہت مہربان ہوں، ایک دوسرے کا احترام کریں،ایک دوسرے کی زبانوں، مذاہب اور روایات کا احترام کریں،ملک میں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں،ہندوستان سب کا ہے اور اس وقت ہندوستان میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ سماجوادی پارٹی لیڈر اکھلیش یادو نے گزشتہ ہفتے اپنے بیان میں کہا کہ بی جے پی دوبارہ فرضی ووٹ بنانے میں لگی ہے اور جمہوری نظام کو ناپاک کرنے پر آمادہ ہے،بی جے پی کے لوگوں نے اگر ووٹ بنوانے میں ہیرا پھیری کی تو فرضی ووٹ بنوانے والوں افسران اور ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی، اکھلیش یادو خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت ووٹروں کی فہرست پر تبادلہ خیال کررہے تھے، یادو نے کہا کہ 2027 میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بنانے کیلئے کارکن متحد ہو کر گھر گھر جائیں اور لوگوں سے رابطہ کر پارٹی کی پالیسیوں اور پروگراموں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ جانکاری دیں،
انہوں نے ریاست کی معزز عوام سے بی جے پی کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی، انہوں نے کہا کہ ریاست کی عوام اور ووٹر، بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں، بی جے پی زمینی مافیا کے کردار میں ہے، ریاست بھر میں سرکاری اور غریبوں کی زمینوں پر بی جے پی کے لوگ غیر قانونی طور پر قبضہ کررہے ہیں، سیاست دان افرادوں ، تاجروں اور سرکاری افسران کی بدعنوانی اور لوٹ مار عروج پر ہے،ہر محکمہ میں کرپشن کی دیمک عام لوگوں کو چاٹ چاٹ کر جسمانی اور نفسیاتی طور پر کمزور کر رہی ہے ، بی جے پی حکومت میں سرکاری مشینری نے بدعنوانی کی حدیں پار کردی ہیں۔ 2027 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا پتہ نہیں چلے گا، یادو نے کہا کہ ووٹر لسٹ کے لیے کیا جانے والا ایس آئی آر ہی این آر سی ہے،جو کام وزارت داخلہ کا تھا، اسے بی جے پی حکومت،الیکشن کمیشن سے کرارہی ہے،ایس آئی آ ر کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں کئی خامیاں سامنے آرہی ہیں،وزیراعلی نے خود تسلیم کیا ہے کہ چار کروڑ ووٹ یوپی سے کٹ رہے ہیں،بی جے پی ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کی کوشش کررہی ہے!
Post Views: 271
