اعظم گڑھ (پریس ریلیز): اعظم گڑھ کی سرزمین ایک عظیم قرآنی سعادت اور روحانی سرور سے معمور اس وقت ہوئی، جب دعوتِ اسلامی انڈیا کے زیرِ اہتمام قائم ممتاز قرآنی درسگاہ مدرسة المدینہ فیضانِ صدیقِ اکبر کے ایک سعادت مند طالبِ علم نے ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم زبانی سنا کر نہ صرف اس ادارے کے علمی وقار کو مزید بلند کیا بلکہ اہلِ ایمان کے دلوں کو خوشی، شکرگزاری اور عقیدت کے جذبات سے بھر دیا۔
قرآنِ کریم کی حفاظت اور اس کی سینہ بہ سینہ منتقلی وہ عظیم نعمت ہے جس کا آغاز خود سرورِ کائنات ﷺ کے مبارک عہد سے ہوا۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک کی حفاظت کے لیے ایسے منتخب بندے عطا فرمائے جو قرآن کو اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے ہیں۔ اگرچہ ہر سال ہزاروں طلبہ حفظِ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں، لیکن ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم سنانا جسے عرفِ عام میں منزل سنانا کہا جاتا ہے غیر معمولی حافظے، مضبوط ذہنی یکسوئی، طویل ریاضت اور روحانی استقامت کا نادر مظہر ہوتا ہے۔
اسی بابرکت سلسلے کی ایک روشن کڑی اس وقت سامنے آئی جب مدرسة المدینہ فیضانِ صدیقِ اکبر، اعظم گڑھ کے طالبِ علم عزیزم حافظ محمد حسنین بن مولانا محمد منشرف نظامی نے بتاریخ 5 فروری 2026ء، بروز جمعرات ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم زبانی سنانے کی عظیم سعادت حاصل کی۔ تلاوتِ کلامِ پاک کا آغاز صبح 8:26 بجے ہوا، جو درمیان میں مختصر اور ناگزیر وقفوں کے ساتھ بحمدہٖ تعالیٰ رات 7:30 بجے اختتام کو پہنچا۔
اس مکمل تلاوت کو سماعت فرمانے کا شرف ادارے کے پرنسپل، صاحبِ علم و اخلاق حضرت حافظ و قاری مولانا اقبال حسین صاحب مصباحی اور مذکورہ طالب علم کے استاذِ خاص حضرت حافظ و قاری محمد اصغر صاحب قبلہ اعظمی مصباحی کو حاصل ہوا، جنہوں نے نہایت انہماک، باریک بینی اور اطمینان کے ساتھ مکمل قرآنِ کریم سماعت فرمایا۔ دورانِ سماعت تجوید کی پختگی، روانی کی یکسانیت اور ضبط کی مضبوطی نمایاں رہی، جس پر اساتذۂ کرام نے دلی مسرت اور کامل اطمینان کا اظہار فرمایا۔
یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ مدرسة المدینہ فیضانِ صدیقِ اکبر، اعظم گڑھ اس سے قبل بھی ایسے کئی یادگار قرآنی مناظر کا امین بن چکا ہے، جہاں متعدد خوش نصیب طلبہ ایک نشست میں مکمل قرآنِ کریم سنانے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ یہ سب کچھ اس ادارے کے مضبوط تعلیمی نظام، قرآنی ماحول، اساتذۂ کرام کی مخلصانہ محنت اور طلبہ کی مسلسل جدوجہد کا واضح ثبوت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارہ اپنے اعلیٰ تعلیمی معیار، منظم نظم و نسق، باصلاحیت اور درد مند اساتذۂ کرام، ذمہ داران کی شبانہ روز کاوشوں اور مثالی تربیتی نظام کے باعث علاقے میں ایک ممتاز اور قابلِ اعتماد مقام رکھتا ہے۔ یہاں حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ طلبہ کی دینی بصیرت، اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کی تیاری پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے، جس کے ثمرات وقتاً فوقتاً نمایاں ہو کر سامنے آتے رہتے ہیں۔
ختمِ قرآن کے بعد ادارے میں حضرت مولانا اقبال حسین صاحب مصباحی کی صدارت میں ایک پُروقار اور روح پرور دعائیہ نشست منعقد ہوئی، جس میں حضرت حافظ و قاری محمد اصغر صاحب اعظمی، حضرت حافظ و قاری سعید اختر صاحب، حضرت حافظ و قاری اقبال احمد صاحب اور طالبِ علم کے والدِ مکرم مولانا محمد منشرف نظامی صاحب نے حافظِ قرآن کو دلی مبارکباد پیش کی، ان کی محنت و استقامت کو سراہا اور اس کامیابی کو اساتذۂ کرام کی رہنمائی اور والدین کی مخلص دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا۔
اس موقع پر حضرت مولانا اقبال حسین صاحب مصباحی  نے نہایت درد مندی سے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس طالبِ علم کے علم و عمل میں بے پناہ برکت عطا فرمائے، اسے قرآنِ کریم کا سچا خادم، باعمل حافظ اور دینِ اسلام کا مخلص مبلغ بنائے، اور اس کے ذریعے ملت و امت کو نفع پہنچائے۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں اجتماعی دعا کی گئی، اس عظیم قرآنی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا، اور اس پختہ امید کا اظہار کیا گیا کہ مدرسة المدینہ فیضانِ صدیقِ اکبر، اعظم گڑھ آئندہ بھی ایسے ہی روشن، قابلِ فخر اور تاریخ ساز قرآنی کارناموں کا مرکز بنا رہے گا۔
مذکورہ اطلاع دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف کے ناظم تعلیمات ادیب شہیر حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے پریس ریلیز کے ذریعہ دیا-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے