ممبئی:(27 فروری): رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جہاں مساجد اور محلّوں میں روحانی اجتماعات اور افطار کی محفلیں سجی ہوتی ہیں، وہیں اس سال ممبئی میں ایک ایسا افطار بھی منعقد ہو رہا ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اور معنوی طور پر نہایت گہرا ہے۔ 28 فروری کو شہر میں انوسینس نیٹ ورک(  Innocence Network) کی جانب سے اُن افراد کے ساتھ دعا، یکجہتی افطار اور عوامی اجتماع کا اہتمام کیا جا تاہے جو دہشت گردی اور دیگر سخت گیر قوانین کے تحت برسوں جیلوں میں قید رہنے کے بعد عدالتوں سے باعزت بری ہو چکے ہیں، یا اب بھی ضمانت پر رہائی کے بعد قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ افطار محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ انصاف، یادداشت اور اجتماعی شعور کی علامت بن چکا ہے۔ اس میں شرکت کرنے والوں کی بڑی تعداد سابق قیدیوں، ان کے اہلِ خانہ، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مشتمل ہوگی۔ خاص بات یہ ہے کہ صحافی منیشا بھلا (دینک بھاسکر) کے علاوہ تمام مقررین یا تو خود سابق قیدی ہیں، یا ضمانت پر رہا ہیں، یا اہم مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔
برسوں کی اسیری کے بعد آزادی
ان چہروں میں ایک نمایاں نام عبد الواحد شیخ کا ہے، جو 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین دھماکوں کے مقدمے میں گرفتار ہوئے اور تقریباً نو برس جیل میں گزارنے کے بعد بے قصور قرار پائے۔ اس مقدمے کا تعلق 2006 ممبئی ٹرین دھماکوں سے تھا، جس میں متعدد ملزمین کو نچلی عدالتوں سے سخت سزائیں سنائی گئیں، لیکن بعد ازاں اعلیٰ عدلیہ نے کئی افراد کو شواہد کی کمی کی بنیاد پر بری کر دیا۔
عبد الواحد شیخ پیشے سے استاد ہیں اور رہائی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کو نئی سمت دینے کا عزم کیا۔ جیل ہی میں انہوں نے قانون کی تعلیم کا آغاز کیا، ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کیں اور بعد ازاں پی ایچ ڈی بھی مکمل کی۔ اس وقت وہ ممبئی کے انجمن اسلام احمد سیلر ہائی اسکول ناگپاڑہ میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ ملازمت کے تقاضوں کے باعث وہ عملی وکالت نہیں کرتے، تاہم ضرورت مندوں کو قانونی مشورہ اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ان کی دو کتابیں ’’بے گناہ قیدی‘‘ اور ’’عشرت جہاں انکاؤنٹر‘‘ منظر عام پر آ چکی ہیں، جن میں انہوں نے نہ صرف اپنی اسیری کی داستان بیان کی بلکہ اس نظام پر بھی سوال اٹھائے ہیں جو کمزور شواہد پر لوگوں کو برسوں قید میں رکھتا ہے۔
عبد الواحد جیسے افراد کی زندگیاں محض قانونی فیصلوں سے بحال نہیں ہو جاتیں۔ برسوں کی اسیری ان کے خاندانوں پر معاشی، سماجی اور نفسیاتی اثرات چھوڑتی ہے۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، خاندان بدنامی اور سماجی تنہائی کا شکار ہوتا ہے اور رہائی کے بعد بھی معاشرے میں شکوک کی نگاہ باقی رہتی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے اس افطار کو ایک گہرے سماجی پیغام کا حامل بنا دیا ہے۔
مقررین اور پس منظر
اجتماع میں مولانا غلام یحییٰ، سابق امام حج ہاؤس ممبئی،شریک ہوتے ہیں، جو ایک دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار ہوئے تھے اور بعد ازاں بری قرار پائے۔ اسی طرح محمد ساجد انصاری، جو 7/11 ممبئی لوکل ٹرین سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں طویل عرصہ قید میں رہنے کے بعد حال ہی میں بمبئی ہائی کورٹ  سے بری ہوئے، اپنے تجربات بیان کریں گے۔
پروگرام میں رونا ولسن، جو Bhima Koregaon case میں ضمانت پر رہا ہیں، اور ایڈوکیٹ صادق قریشی، جو یو اے پی اے کیس میں گرفتار رہے، بھی شرکت کریں گے۔ بمبئی ہائی کورٹ کے نوجوان وکیل ایڈوکیٹ ونود پاٹل اور سینئر صحافی منیشا بھلا بھی اجتماع سے خطاب کریں گے۔
یہ تنوع اس بات کی علامت ہے کہ یہ اجتماع کسی ایک مذہب، مسلک یا نظریے تک محدود نہیں بلکہ مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔
افطار: ایک دسترخوان، کئی داستانیں
رمضان کے دسویں روزے کے موقع پر غروبِ آفتاب کے وقت جب سب ایک دسترخوان پر جمع ہوں گے تو یہ منظر بظاہر سادہ ہوگا، مگر اس کے اندر برسوں کی کہانیاں پوشیدہ ہوں گی۔ یہاں غلط مقدمات، من گھڑت الزامات، مسلسل تاریخوں کے التوا، تنہائی کی کوٹھڑیوں، طبی سہولیات کی کمی اور انصاف کے طویل انتظار کی داستانیں بیان ہوں گی۔
ساتھ ہی استقامت کی کہانیاں بھی سنائی دیں گی—کہ کس طرح قید کے دوران ذہنی توازن برقرار رکھا گیا، کس طرح اہلِ خانہ نے معاشی و سماجی صدمات برداشت کیے، اور کس طرح بعض افراد نے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کر کے اپنی بے گناہی ثابت کی۔
اِنوسینس نیٹ ورک گزشتہ چند برسوں سے اس افطار کا اہتمام ایک خاموش مگر پُرعزم اقدام کے طور پر کرتا آ رہا ہے۔ اس کا مقصد غلط الزامات کو چیلنج کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ انصاف محض گرفتاریوں کی تعداد یا سخت قوانین کے نفاذ سے قائم نہیں ہوتا۔
تقسیم کے بیانیے کو چیلنج
ریاستی بیانیے اکثر مذہب، ذات، زبان یا نظریے کی بنیاد پر افراد کو تقسیم کر دیتے ہیں اور انہیں فائلوں اور نمبروں تک محدود کر دیتے ہیں۔ یہ افطار ان حد بندیوں کو چیلنج کرتا ہے۔ سابق قیدی ان تمام تفریقوں سے بالاتر ہو کر ایک ساتھ بیٹھتے ہیں اور اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ انہیں تنہا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
یہ اجتماع سوگ کا نہیں بلکہ یکجہتی کا اظہار ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ریاست کا الزام لگانے اور قید کرنے کا اختیار ناقابلِ خطا نہیں ہوتا۔ جب بے گناہ افراد برسوں بعد بری ہوتے ہیں تو یہ صرف ان کی ذاتی فتح نہیں بلکہ انصاف کے نظام پر ایک سوالیہ نشان بھی ہوتا ہے۔
ایک بڑا پیغام
یہ افطار بظاہر ایک سادہ سا اجتماع ہے—غروبِ آفتاب کے وقت ایک دسترخوان۔ مگر اس کے اندر ایک بڑا پیغام پوشیدہ ہے: یہ کہ ناحق الزامات کا شکار افراد گمنام نہیں رہیں گے؛ یہ کہ ہمدردی، تعاون اور قانونی شعور کے نیٹ ورک سزا کے اداروں سے زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں؛ اور یہ کہ جب قیدی سرحدوں اور تفریق سے بالاتر ہو کر متحد ہوتے ہیں تو وہ صرف کھانا شریک نہیں کرتے بلکہ اُن طاقتوں اور ناانصافیوں پر سوال اٹھانے کا حوصلہ بھی بانٹتے ہیں جنہوں نے انہیں برسوں قید رکھا۔
ممبئی کی اس منفرد افطار تقریب نے رمضان کے پیغام—صبر، ہمدردی اور عدل—کو ایک عملی شکل دے دی ہے، جہاں دعا کے ساتھ ساتھ انصاف کی اجتماعی صدا بھی بلند ہو رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے