ابو احمد مہراج گنج

رمضان المبارک کی آمد کا مقصد ہماری زندگیوں میں ایک روحانی انقلاب برپا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے”یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون (ترجمہ ) "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔”

 تقویٰ کیا ہے؟

تقویٰ کا مطلب صرف تسبیح ہاتھ میں لینا نہیں، بلکہ دل میں اللہ کا ایسا خوف اور محبت پیدا کرنا ہے جو انسان کو گناہوں سے روک دے۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے تقویٰ کی مثال یوں دی کہ جیسے کوئی شخص جھاڑیوں والے کانٹے دار راستے سے اپنے دامن کو بچا کر گزر جائے۔ کیا ہم نے پہلے دس دنوں میں اپنے دامن کو جھوٹ، غیبت، حسد اور بدگمانی کے کانٹوں سے بچایا؟

کیا ہم صرف ‘عادت’ پوری کر رہے ہیں یا ‘عبادت’؟

ہم میں سے اکثر کی حالت یہ ہے کہ ہمارا روزہ صرف سحر و افطار کے اوقات بدلنے تک محدود رہ جاتا ہے۔ ہم دسترخوانوں کی وسعت پر تو توجہ دیتے ہیں، لیکن اخلاق کی پستی پر غور نہیں کرتے۔

اگر روزہ رکھ کر بھی ہم نے تلخ کلامی، جھوٹ اور غیبت نہیں چھوڑی، تو ہم نے مقصدِ روزہ حاصل نہیں کیا۔

 کیا ہم نے اپنی نظروں اور سماعتوں کو ان چیزوں سے بچایا جو اللہ کو ناپسند ہیں؟

روزہ ایک ٹریننگ کورس ہے جو ہمیں ضبطِ نفس سکھاتا ہے۔ جب ہم اللہ کے حکم پر حلال چیزیں (کھانا پینا) چھوڑ دیتے ہیں، تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اب ہم میں اتنی ہمت پیدا ہو جانی چاہیے کہ ہم پورے سال حرام کاموں کے قریب بھی نہ جائیں۔ اگر دس دن گزرنے کے بعد بھی ہمارے غصے، ہماری انا اور ہمارے رویوں میں تبدیلی نہیں آئی، تو ہمیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچنا ہوگا کہ کمی کہاں رہ گئی ہے۔

پہلا عشرہ رحمت کا تھا، کیا ہم نے اللہ کے بندوں پر رحم کیا؟ تقویٰ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم معاشرے کے محروم طبقے کے دکھ کو محسوس کریں۔ اگر ہم افطاری میں اسراف کر رہے ہیں اور پڑوسی یا محلے دار کی خبر نہیں لے رہے، تو ہم روحِ صوم سے دور ہیں۔اب بھی وقت ہےرمضان ابھی باقی ہے۔ پہلے عشرے کی کوتاہیوں کا ازالہ توبہ اور اصلاح سے ممکن ہے۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا میری نمازوں میں خشوع پیدا ہوا؟

 کیا قرآن سے میرا تعلق صرف تلاوت تک ہے یا فہم تک؟

 کیا میں نے اپنے نفس کو ‘انا’ سے پاک کیا؟

اگر ہم واقعی متقی بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں بقیہ دنوں میں اپنی رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ یاد رکھیے، اللہ کو ہمارے بھوکے اور پیاسے رہنے کی ضرورت نہیں، اسے ہمارا وہ ٹوٹا ہوا دل اور جھکی ہوئی پیشانی پسند ہے جو تقویٰ کے نور سے منور ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے