محمدیوسف رحیم بیدری

۱۔ جاناں 
’’چندایک مقامات ایسے ہوتے ہیںجن کی طرف جانے کے بعد دیگر موضوعات سے دلچسپی ختم ہوسکتی ہے لہٰذا ایسے منحوس مقامات سے پرہیز کرنا چاہیے ‘‘ والدہ نے انتباہ دے دیاتھا۔ وہ دن ہے اور آج کادِن تیری گلی سے گزرنے کوجی نہیں چاہتا جاناں
۲۔بے وطنی
اُس کے لائے ہوئے وطنی ٹفن میں کھاتے ہوئے آشیش بڑلا سے باتیں بھی ہورہی تھیں۔ پانچوں دوستوں میں سے اچانک ہی کسی نے آشیش سے پوچھ لیا’’یار، تمہارے شہر میں لوگ گلف سے واپس آئے ہیں کیا؟جنگ ہورہی ہے نا‘‘ آشیش دراصل دس دن کی چھٹی کے بعد بنگلورواپس ہواتھا ۔آشیش نے کہا’’نہیں یار، میں بھی انتظار کرتارہا۔ سوشیل میڈیا اور اخبارات میں یہ خبر تلاش کرتارہاکہ ہمارے کے جی ایف میں کوئی گلف سے واپس ہواکہ نہیں ؟لیکن ایسی کوئی خبر مجھے نہیںملی ‘‘ پھر آشیش نے جواباً دریافت کیا’’تم لوگوں کے شہر اور گاؤں کاکیاحال  ہے ؟ کوئی واپس ہوا؟‘‘ایک سرد سا مایوس کرنے والا اجتماعی جواب تھا’’نہیں‘‘کچھ سکنڈ کے لئے خاموشی چھاگئی ۔ آشیش نے اس خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے کہا’’لگتاہے ہمارے اپنے NRIsسے شایدخود ہم لوگوں کومحبت نہیں ہے، اسلئے کوئی انہیں وطن واپسی کے لئے اصرار نہیںکرتا ہوگا۔خودبیوی نہیں کہتی ہوگی کہ اپنے وطن واپس چلے آؤ۔وہاں تو بھیانک جنگ ہورہی ہے، واپسی ضروری ہے ۔ لیکن کسی کا بھی واپس نہ ہونا یہی درشاتا ہے کہ ہمیں گلف کنٹریز کا ریال ، دینارودرہم چاہیے ۔نہیں چاہیے تو ہمارے اپنے نہیں چاہیے۔ شوہر نہیں چاہیے ، باپ بھائی نہیں چاہیے ‘‘اتنا سننا تھاکہ تامل ریڈی نے تقریباً روتے ہوئے کہا’’میری بہن بھی واپس نہیں ہوئی ہے ۔ اس کی تو شادی ہوناباقی ہے ،تین سال سے نرس کی ڈیوٹی کرتی ہے دبئی میں ‘‘چاروں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کرپارہے تھے۔ پانچواں تامل ریڈی رونے میں لگا ہواتھا۔
۳۔ لینا دینابند
  میری بڑی بہن نے ایک موقع پر بتایاکہ لڑائی تو بھائیوں میں ہوتی ہے بہنوں میں نہیں لیکن میراتجربہ کہتاہے ’’ لڑتے سبھی ہیں،کچھ لوگ لڑائی کو بازار تک کھینچ لے آتے ہیں، اورکچھ کی لڑائی وہ سردجنگ ہوتی ہے جو گھرکی چار دیواری اور بھائی بہنوں تک محدود ہوتی ہے۔ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے، خود میری بہنیں پچھلے بیس سال سے آپس میں لڑرہی ہیں ، لیکن بتاتی نہیں ہیں۔ میں بھی انجان بن جاتاہوں ، چاہے بڑی بہن کہتی رہیں لڑائی بہنوں میں نہیں ہوتی ‘‘یہی دیکھ لو ، سنجھلی بہن نے منجھلی سے لڑکی مانگی تو منجھلی خاموش ہوگئی۔ کوئی جواب نہیں دیا۔ آنا جانا تو ہے۔ صرف لینا دینا بندہے۔
۴۔ نیند کی گولیاں 
کبھی کبھی کوئی جملہ ہم پر حملہ آور ہوتاہے تو کئی کئی سال تک وہ جملہ لوگوں کے درمیان میں خود کو نمایاں کرتے ہوئے آپسی نفرت کوبڑھاتااورتعلقا ت کو زہر آلود کردیتاہے۔ ہم اسی جملے کی نفرت کے پروردہ ہیں۔ آپ لو گ کیاکرتے ہیں پتہ نہیں لیکن آپ لوگ بھی کم منافق نہیں ہیں۔ مسکراتے ہیں ، بات چیت کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو تمہیں پسند ہے۔ ہماری بات کو بھی کبھی اہمیت دیاکرو۔ بعض آجاؤ حرام کی کمائی سے ۔ سناہے کہ اسی حرام کی کمائی سے دوتین لے آؤٹ بھی ڈالے گئے ہیں،کروڑہا روپیوں کی پانسات عمارتیں شہرہی میں تیار ہوگئی ہیں۔ ایسی عمارتوں میں تمہیں نیند کس طرح آتی ہے؟ گولی دادا کہہ رہے تھے ، نیندکی گولیاں کھاتے ہوتم لوگ ۔گولی داداکی یہ بات صحیح ہے کیا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے