ڈاکٹر جاوید کمال
سدھار نگر
چار سال کی بیٹی کے سوا اس عورت کا اس دنیا میں اور کوئی نہیں تھا ۔
گھروں میں برتن مانج کر کسی طرح اپنا اور بیٹی کا پیٹ پال رہی تھی وہ۔ گھروں میں کام کرتی تو بیٹی ایک کونے میں بیٹھی ماں کو غور سے دیکھا کرتی۔ گھر والے اس کے ہاتھوں میں کبھی کبھی دو ایک بسکٹ تھما دیتے۔
جانے کیا تھا اس چار سال کی چھوٹی بچی کے دماغ میں کہ ایک دن ماں سے ٹھہر ٹھہر کر بولی، اماں اج سے ہم بھی تمہارے ساتھ کام کریں گے اتنے برتن دھلتے دھلتے تمہارے ہاتھ دکھنے لگتے ہیں نا ۔ ماں نے کھینچ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ انکھوں سے انسو نکل کر بچی کے بالوں کو بھگونے لگے اور بچی سمجھ نہ پا رہی تھی کہ اچانک ماں اسے اتنا پیار کیوں کرنے لگی ۔
