تعلیمی سیشن 1447-48ھ/2026-27 کےآغاز پر پیغام!

سہارنپور ( احمد رضا):  نئے تعلیمی سیشن کے اہم موقعے پر رہبر ملت حضرت الحاج  شاہ پیر جی حافظ حسین احمد قادری مجددی حفظہ اللہ، رئیس فیض العلوم خانقاہ بو ڑیہ، رکن شور ی جامعہ مظاہرعلوم وقف سہارنپور اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے معزز طلباء کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ علم کو سنجیدگی کے ساتھ سیکھیں جو سمجھ میں نہیں آئے اس کو نیا تعلیمی سال اپنے دامن میں بے شمار امیدیں، امکانات اور ذمہ داریاں لے کر ہمارے سامنے آیا ہے۔ یہ محض ایک رسمی آغاز نہیں بلکہ ایک نئی فکر، نیا عزم اور نئی جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ تعلیم دراصل انسان کی ظاہری اور باطنی تعمیر کا نام ہے، اور یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے فرد، معاشرہ اور امت ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتے ہیں۔
آج کے اس نازک دور میں جبکہ دنیا تیز رفتاری کے ساتھ تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، ہمیں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو محض معلومات کے حصول تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے تربیت، کردار سازی اور روحانی بالیدگی کا مؤثر ذریعہ بنائیں۔ تعلیم اگر عمل، اخلاق اور اخلاص سے خالی ہو تو وہ ادھوری رہ جاتی ہے۔طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ وہ اس نئے تعلیمی سال کو سنجیدگی، محنت اور نظم و ضبط کے ساتھ شروع کریں۔ وقت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جس کا صحیح استعمال ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ جو قومیں وقت کی قدر کرتی ہیں، وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ لہٰذا ہر طالب علم اپنے اوقات کو قیمتی سمجھے، فضول مشاغل سے بچے اور علم کے حصول کو اپنا اولین مقصد بنائے۔علماء کرام اور اساتذہ عظام کی ذمہ داری اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ وہ نہ صرف علم کے امین ہیں بلکہ نئی نسل کے معمار بھی ہیں۔ ان کا ہر قول و فعل طلبہ کے لیے نمونہ ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اخلاص، تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیں، اور طلبہ کے دلوں میں علم کی محبت اور دین کی عظمت پیدا کریں اسی طرح عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کریں، اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور ایک صالح، باعلم اور باکردار معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی کامیابی صرف دنیاوی علوم میں مہارت حاصل کرنے میں نہیں بلکہ علم کو اللہ کی رضا، انسانیت کی خدمت اور دین کی سربلندی کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔ جب علم کے ساتھ روحانیت، اور تعلیم کے ساتھ تربیت جڑ جاتی ہے تو ایک متوازن اور مثالی شخصیت وجود میں آتی ہے۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ اس نئے تعلیمی سال کو ہم سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، طلبہ کو علم نافع عطا فرمائے، اساتذہ کو اخلاص و استقامت دے اور ہمیں وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو صحیح رخ پر استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے