رپورٹ: منصور قاسمی

سکریٹری نشر و اشاعت 
عالمی اردو محورریاض، سعودی عرب
کہنہ مشق شاعر اور پانچ شعری مجموعوں کے خالق اور عالمی اردو محور ریاض کے صدر افتخار راغب نے 17 اپریل 26 بروز جمعہ کی شام حارہ، ریاض میں اپنے قیام گاہ پر ایک یادگار شعری نشست کا اہتمام کیا۔ جس کی صدارت پاکستان سے تعلق رکھنے والے معتبر شاعر سلیم کاوش نے کی جب کہ نظامت کے فرائض نقیب الخلیج کے ایڈیٹر منصور قاسمی نے انجام دیے۔ مہمانِ خصوصی کی مسند پر خوش فکر شاعر اول سنگرام پوری براجمان رہے، مہمان اعزازی کی حیثیت سے منفرد لب و لہجے کے شاعر پیر اسد کمال نے محفل کو رونق بخشی۔ محفل میں شریک ہونے والے شعراء میں صدرِ محفل سلیم کاوش، مہمانِ خصوصی اول سنگرام پوری، مہمانِ اعزازی پیر اسد کمال کے علاوہ افتخار راغبؔ، حسان عارفی، سراج عالم زخمی، منصور قاسمی، ضیاء عرشی علیگ اور عبد الرحمان راشد عمری نے اپنے متعدد منتخب کلام پیش کیے اور خوب داد و تحسین وصول کی۔ چند اشعار قارئین کی نذر کیے جاتے ہیں:
  اجنبی! تُم سے رَہ و رَسْم بڑھاؤں کیسے
ہو گئی تم سے کوئی گہری شناسائی، تو؟
وہ پہلے جَیسی رہ و رَسم کیوں نہیں جاناں
کوئی تو تیرے مِرے درمیاں سے گُذرا ہے
 سلیم کاوش
جس كی تفسیر سے ہوتی ہے رقیبوں کو جلن
میرا اعجاز سخن ہے اسی ابہام کے نام
مجنوں ہے سوز عشق سے سیماب پا تو کیا
لیلی بھی لے رہی ہے مزہ اضطراب کا
اول سنگرامپوری
میں لفظ لفظ میں ایسا قیام کر کے گیا
پھر اس کے بعد جو آیا سلام کر کے گیا
شوق ہو گا یہ اور لوگوں کا
شاعری میرا مسئلہ ہے میاں
پیر اسد کمال
کھایا ہے مسکرا کے محبت میں زخم روز
زخمِ جگر کرید کے تازہ نہیں کیا
کیا لطف دے رہا ہے مرَض عشق کا مجھے
اچھا کیا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا
افتخار راغب
پھر مٹائے جائیں گے دو چار قدموں کے نشان
گھڑ لیے جائیں گے پھر دس بیس افسانے نئے
تب کہیں جا کر نئی فصلیں اگیں ہیں ہر طرف
کوکھ میں دھرتی کی جب ڈالے گئے دانے نئے
 حسان عارفی
زندگی تجھ سے مجھے غم کے سوا کچھ نہ ملا
میری بے لوث محبت کا صلہ کچھ نہ ملا
دیدے مایوس ہیں اور دل بھی بڑا رنجیدہ
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا کچھ نہ ملا
 منصور قاسمی
جو لوگ کسی طور میسر نہیں ہوتے
درکار تھے، درکار ہیں، درکار رہیں گے
جاگیر بھی لیتے نہیں خیرات میں ہم لوگ
خود دار تھے، خود دار ہیں، خود دار رہیں گے
 سراج عالم زخمی
لرزاں دلِ ظالم ہو ، غاصب بھی جگر تھامے
اس شہرِ خموشاں میں آواز وہ پیدا کر
ضیاء عرشی
دیا ہے امن کا پیغام میں نے دشمن کو
اسی لیے وہ مرا احترام کرتا ہے
ہوگئی جب سے سخن کی مرے ان سے نسبت
مہکا مہکا مرا دیوان ہوا جاتا ہے
عبدالرحمن راشد عمری
اپنے رسمی و غیر رسمی تاثرات میں تمام شعرا و سامعین نے انتہائی فرحت و شادمانی کے ساتھ فرمایا کہ افتخار راغب کی آمد سے ریاض کی ادبی فضا میں رونق آ گئی ہے۔ عالمی اردو محور جیسی ادبی تنظیم کا قیام اور اردو ادب کے فروغ کی فکر لے کر جس طرح افتخار راغب کھڑے ہوئے ہیں یقیناً اہل ریاض پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے