میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
مغز سارا کہاں بیان میں تھا
امن لیکن بچا امان میں تھا
میں یقیں میں ، وہ پر گمان میں تھا
وہ مری اور میں اس کی جان میں تھا
میں بھی اڑ جاؤں ، ایسا ہوگا نہیں
ساراجلوہ ہی آسمان میں تھا
دوست لگتا ہے توڑدینے کو
مذہبی رشتہ مہربان میں تھا
آگ عالم میں پھیلنے لگی تھی
حقہ میں پی رہامکان میں تھا
کوئی دیکھانہیں اسی جانب
موت کا رازہی پلان میں تھا
ہاں !چلاآرہاہے قصہ میرؔ
غبی کردار داستان میں تھا
