اجلاس عام کی تمام تیاریاں مکمل، عوام و خواص سے شرکت کی درخواست
ہارون انصاری
مہراج گنج: اسلام دین رحمت ہے، اس رحمت کو عام کرنے اور پیغام ربانی کو عام کرنے کے لئے اللہ جل شانہ نے نبی رحمت کو مبعوث فرمایا، تاکہ راہ راست سے بھٹکی انسانیت اور کفر وضلالت کی غلاظت سے نکال کر معرفت الہی کرائی جائے، خلاق دوعالم ہی مالک حقیقی ہے، اسی نے اس کائنات کی تخلیق فرمائی، اس کرہ ارض پر معبود ہونے کا بہت سارے لوگوں نے جھوٹادعوی کیا اور دنیا سے رخصت بھی ہوگئے ان کی رعونت، سرداری، سروری، تخت وتاج انہیں نہیں بچا سکی، انہوں نے جوکیا وہ اور دنیاوالے میدان محشر میں اپنے اپنے اعمال کے جوابدہ ہونگے۔
علماء انبیاء کے وراث ہیں، انہیں کے ناتواں کندھے پر صالح معاشرہ کے تشکیل کی ذمہ داری دی گئی ہے، ہر دور میں یہ وارثین اپنے انداز میں دعوت وارشاد کا فریضہ انجام دیتے آرہےہیں۔ اسی سلسلہ کی کڑی گاؤں اور شہروں میں منعقدہونے والے اجلاس عام بھی ہیں، ان جلسوں سے امت مسلمہ کو فائدہ اٹھانے کا سنہرا موقع ملتاہے۔موضع سمرھنی اس گاؤں کا نام ہے جہاں سلفیت کے چراغ کو لوبخشنے کے لئے شیخ نذیراحمد انصاری رحمہ اللہ نےعظیم بیڑا اٹھایاتھاوہ اکیلے مرد آہن تھے جنہوں نے کفروشرک کے مابین رہ قرآن وسنت کی تعلیمات کے لئے اپنے گھرسے متصل جگہ کوصفہ چبوترہ بنایا، آپ سن 01/01/1950 میں پیدا ہوئے اور کسب حصول علم کے بعد مختلف درسگاہوں میں تدریسی خدمات انجام دی اور آخری وقت اہل قری کی اصلاح کرتے دارالبقاء کو روانہ ہوگئے۔ اللہ ان کے دینی دعوتی خدمات کوباعث نجات بنائے اور ان کے صاحبزادے شیخ عبدالرحمن نذیری حفظہ اللہ نے آپ کےبعد جس بیڑا کو اپنے ناتواں کندھے پر ذمہ داری سمجھ کر انجام دے رہے ہیں ثبات قدمی بخشے آمین۔
درحقیقت دینی اجلاسِ عام کےبہت سےسماجی فوائد ہوتےہیں۔ اہم فوائد یہ ہیں: سب سےپہلے، یہ ایمان کو مضبوط کرتاہےکیونکہ قرآن و حدیثکیباتیں سن کر دل نرم ہوتاہےاوراللہ کی یادبڑھتی ہے۔ دوسرا، اس سےدینی علم میںاضافہ ہوتاہے، لوگ علماء کی تقاریرسےصحیح معلومات حاصل کرتےہیں۔ تیسرا، یہ اصلاحِ نفس کا ذریعہ بنتا ہے، انسان اپنی غلطیوںپر غور کرتاہےاوربہتربننےکی کوشش کرتاہے۔ چوتھا، دینی اجلاس سےاتحاد اوربھائی چارہ بڑھتاہے، مسلمان ایک جگہ جمع ہوکرایک دوسرےکےقریب آتےہیں۔ پانچواں، یہ نیکی کی ترغیب اوربرائی سےروکنےکا سبب بنتا ہے، جس سےمعاشرہبہترہوتاہے۔ چھٹا، اسمیں دعاؤں کی قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہےکیونکہ اجتماعی دعا کی خاص اہمیت ہے۔ ساتواں، یہ اخلاقی تربیت کرتا ہے، جیسے صبر، برداشت، عاجزی اور اچھے کردارکی تعلیم ملتی ہے۔
دعوت و تبلیغ کےچنداہم کردار درج ذیل ہیں:
01-عقائد کی درستگی: دعوتو تبلیغکےذریعےلوگوںکوصحیحعقیدہ (توحید، رسالت، آخرت) کی طرف بلایاجاتاہے، جس سےگمراہیاوربدعاتکاخاتمہہوتاہے۔
02-اخلاقی اصلاح: یہلوگوںمیںاچھےاخلاقجیسےسچائی، امانتداری، صبر اوربرداشتپیداکرتیہےاوربرائیوںجیسےجھوٹ، ظلم اوربدعنوانیسےروکتیہے۔
03- نیکی کی ترغیب اوربرائی سےروکنا:دعوتو تبلیغکابنیادی مقصد “امر بالمعروف اورنہی عن المنکر” ہے، جس سےمعاشرےمیںنیکی عام اوربرائی کم ہوتی ہے۔
04- سماجی ہم آہنگی: جب لوگ دینی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں تو آپس میں محبت، بھائی چارہ اور اتحاد پیداہوتاہے، جس سےمعاشرہ پرامن بنتا ہے۔
05- عبادات کی پابندی: دعوت کےذریعے نماز، روزہ، زکوٰۃوغیرہکیاہمیتاجاگرہوتی ہے، جو فرد کی اصلاح کےساتھ ساتھ اجتماعی بہتری کا سبب بنتی ہیں۔
06- برے رسم و رواج کاخاتمہ:دعوت و تبلیغ غیراسلامی اور نقصان دہ رسم و رواج کو ختم کرنےمیں مدد دیتی ہےاوراسلامی اقدارکو فروغ دیتی ہے۔
07- ذمہ داری کاشعور: یہ افرادمیںیہ احساس پیداکرتی ہےکہ وہ معاشرےکےذمہ دار رکن ہیں اورانہیںدوسروں کی اصلاح میںبھی حصہ لیناچاہیے۔
انہیں فوائد کو سامنے رکھتے ہوئےاس عظیم الشأن اجلاس کا انعقاد بتاریخ 13 مئی بروز بدھ موضع سمرہنی میں منعقد کیاگیاہے جس میں خطابت کا جلوہ بکھیرنے ڈاکٹرعبدالغفارسلفی ،انیس الرحمن مدنی، محمد احمد فیضی، نیاز احمد فیضی، شکیل احمد سلفی، عبدالمبین مدنی،ابوالکلام سلفی وغیرھم کی تشریف آوری متوقع ہے۔
شیخ عبدالرحمن نذیری نےاپنےاخبارکوبتایاکہ یہ موجودہ سیاست سےبالکل پاک ہوگا اوراس اجلاس میں صرف اور صرف دینی اور اسلامی، اصلاحی باتیں ہونگی، انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام میں بلا تفریق مذہب ومسلک گنگا جمنی تہذیب کی احیاء اور بقاء کے لئے شامل ہوں اور واغظین کے پندونصائح سے مستفید ہوں۔
