ڈاکٹر منظور احمد محمد عالم

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، وہ ایسا فریضہ ہے جو عمر میں ایک مرتبہ جسمانی ومالی استطاعت و قدرت رکھنے والے مسلمان پر عائد ہوتا ہے، وہ ایسی عبادت ہے کہ جس میں جسمانی محنت و مشقت کے ساتھ مال کا ایک اچھا خاصا حصہ صرف ہوتا ہے، علاوہ ازیں اس کو ادا کرنے کے لیے بہت سارے وقت کی بھی قربانی دینی پڑتی ہے، ان سب کے باوجود اسے ادا کرنے کے لیے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں اور کروڑوں اس کی تمنا و حسرت دل میں بسائے آخرت کے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں آخر اس عبادت کے اتنے کیا فائدے ہیں جس سے ہر مسلمان سرشار ہونا چاہتا ہے؟!

ذیل میں حج کے چند فوائد بتائے جا رہے ہیں۔

١- حج کرنے سے گناہ معاف ہوتا ہے۔ حج کا مقدس فریضہ انجام دینے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "من حج فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه”.

جو اخلاص کے ساتھ حج کا فریضہ انجام دے گا اور فحش و منکر باتوں اور بے حیائی کے کاموں اور گناہوں سے بچے گا، وہ سفر حج سے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن کی طرح لوٹے گا، یعنی وہ گناہوں سے پاک ہو گا۔

٢- تقویٰ کا حصول۔ حاجی رضاء الہی کی خاطر حج کا فریضہ انجام دینے کے لیے گھر سے نکل پڑتا ہے، احرام باندھتا ہے، طواف و سعی کرتا ہے مشاعر مقدسہ میں وقوف و قیام کرتا ہے اور اللہ کے لیے قربانی ذبح کرتا ہے، اس طرح وہ متقی و پرہیزگار بندہ بن جاتا ہے۔ ” لن ينال الله لحومها ولا دمائها ولكن يناله التقوى منكم”.

اللہ تعالی کو قربانی کے جانور کا گوشت و خون نہیں پہنچتا ہے بلکہ اسے تمہاری تقوی پہنچتا ہے. مشاہدہ بتاتا ہے کہ بالعموم حاجی حضرات وخواتین تقوی کی راہ پر استقامت اختیار کرتے ہیں۔

٣- جنت کا حصول. حج کا ایک بڑا فائدہ جنت کا حصول ہے.

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں "الحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة”.

حج مبرور کا بدلہ یقینا جنت ہے۔ حج مبرور یعنی وہ حج جس میں اخلاص اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا لحاظ کیا گیا ہو۔

٤- فقیری و محتاجی دور ہوتی ہے۔

حج و عمرہ بار بار کرنے سے فقیری و محتاجی دور ہوتی ہے۔

ارشاد نبوی ہے "تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة ".

حج و عمرہ کثرت سے کیا کرو کیونکہ ایسا کرنے سے فقر و گناہ ایسے مٹتے ہیں جیسے لوہا و سونا چاندی کے زنگ آگ کی بھٹی میں تپانے سے دور ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ حاجی حضرات وخواتین مسجد حرام میں نماز ادا کرنے اور خانہ کعبہ کے نفلی طواف کا ثواب حاصل کرتے ہیں، دینی دروس سے مستفید ہوتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ہمدرد بن جاتے ہیں اور اسلامی اتحاد کا عظیم درس لیے واپس لوٹتے ہیں۔ حج تجارت و کاروبار کے لیے بھی بہت بڑا سیزن ہوتا ہے، حاجی وغیر حاجی اس موسم سے کاروباری فائدے اٹھاتے ہیں۔

مملکت سعودی عرب حاجی حضرات و خواتین کی خدمت کو اپنے لیے باعث شرف سمجھتی ہے اور ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا بڑا خیال کرتی ہے۔

حج کے پورے سیزن میں حج کے اعمال کو ادا کرانے میں حاجی حضرات وخواتین کا اپنے تمام تر انسانی ومالی وٹیکنالوجی طاقت وقوت و ذرائع کے ساتھ بھرپور مدد کرتی ہے، مکہ، منی، عرفہ اور مزدلفہ میں ہزاروں طرح کے حکومتی انتظامات شاہد و موجود ہیں جس سے حاجی حضرات وخواتین کو حج وعمرہ کے اعمال ادا کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے، بلکہ ارض حرمین میں ان کی آمد سے لے کر واپسی تک کے سارے انتظامات حکومت کے زیر اشراف ونگرانی میں انجام پاتے ہیں تاکہ حاجی حضرات وخواتین کو اس مبارک سفر میں کسی طرح کی دشواری نہ ہو اور اپنے مقصد میں کامیاب و کامران ہو کر اپنے ملک لوٹ سکیں۔

اللہ تعالیٰ سعودی حکومت کی خدمات کو قبول فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے