تحریر: جاوید بھارتی
اے اللہ ہم سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، اے اللہ ہماری انکھیں گناہ کر چکی ہیں، اے اللہ ہماری زبان گناہ کر چکی ہیں، اے اللہ ہمارا دل وسوسوں سے بھرا ہے، اے اللہ ہمارے قدم بہکے ہوئے ہیں ، ائے اللہ ہم رات کے اندھیروں میں گناہ کر چکے ہیں، اے اللہ ہم مجمعے میں گناہ کر چکے ہیں، اے اللہ ہم اکیلے میں بھی گناہ کر چکے ہیں ، اے اللہ ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کرچکے ہیں، اے اللہ ہم اپنے ہاتھوں کو سخاوت کے لئے اٹھانے میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ ہم اپنے پاؤں کو راہ صداقت میں بڑھانے میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ تونے آنکھیں عطا کیں لیکن ہم دیدار حقیقت میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ تونے ہمیں پیشانی عطا کی لیکن ہم تیری بارگاہ میں جھکانے میں پیچھے رہ گئے ہیں ،اے اللہ تونے زبان عطا کی لیکن ہم تیرے ذکر و اذکار میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ تونے ہمیں رہنے کے لئے مکان دیا لیکن اس مکان سے ہم تلاوت قرآن کی صدا بلند کرنے میں پیچھے رہ گئے ہیں، اے اللہ تونے ہمیں آرام کے لئے نیند اور رات عطا کی لیکن اس رات کے حصے میں ہم تہجد ادا کرنے اور تجھ سے قریب ہونے میں پیچھے رہ گئے ہیں، اے اللہ فجر کے وقت اذان کے کلمات سن کر ہم مسجد کی طرف دوڑنے میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ ظہر، عصر اور مغرب کی اذان کے کلمات سن کر بھی ہم مسجد کی طرف نہیں دوڑتے، اے اللہ ہم نماز عشاء بھی ترک کرتے ہیں، اے اللہ تیرے دربار میں ہم اپنے جرموں کا اقرار کرتے ہیں صرف اس آس اور امید و یقین سے کرتے ہیں کہ تو ہی خالق و مالک ہے ، توہی رحمٰن و رحیم ہے ، تو ہی کریم و غفار ہے، اے اللہ ہمارے گناہوں کا اقرار کسی عدالت میں کیا جائے تو ہمیں پھانسی کی سزا دے دی جائے، ہمیں جیلوں میں بند کر دیا جائے، ہمیں کوڑے مار دیے جائیں، مگر تو گناہوں کو معاف کرنے والا ہے، تو ہی ہماری فریاد کو سننے والا ہے، تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے ،اے کریم خدا ہم تیرے دربار میں نہ آئیں تو ہم کہاں جائیں، تیری بارگاہ میں نہ گڑگڑائیں تو کہاں گڑگڑائیں ، اے پروردگار تو نے جو فرمایا کہ جب میرا بندہ مجھے مصیبت میں پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کو سنتا ہوں، پھر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا کون ہے اے کریم خدا تیرے حبیب کی امت اج کسم پرسی کی حالت میں ہے، اے اللہ جگہ جگہ تیرے حبیب کی امت کے بچوں کی چیخیں نکل رہی ہیں، اے کریم خدا آج آندھی زلزلے طوفان یہاں ہیں ،اے اللہ تیرے محبوب کی پوری امت کو دنیا کے کچھ ظالم حکمران ہلاک کرنا چاہتے ہیں، قران مقدس کی بے حرمتی کرتے ہیں، تیرے محبوب کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں، دین اسلام کو دنیا سے مٹانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں، تیرے بندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توے جا رہے ہیں،، اے رب العالمین اب تو رحم فرما کرم فرما رحم و کرم کی بارش فرما،،
