حافظہ ھِبَۃُ الرحمن بنت محمد رضوان ندوی
محلہ قلعہ نان پارہ ، ضلع بہرائچ ، یوپی
اس وقت پورے بھارت میں مردم شماری چل رہی ہے ، کیا آپ مردم شماری جانتے ہیں ؟ اس میں پہلے مکانات کی گنتی ہوتی ہے ، یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ کس گاؤں میں کتنے مکان کچے ہیں کتنے پکے ؟ پانی کا انتظام ہے کہ نہیں ہے ؟ بجلی سے کتنے گھر محروم ہیں ؟ کن لوگوں کے یہاں بیت الخلاء ہے کس کے یہاں نہیں ہے ، کس کے گھر میں گیس سے کھانا بنایا جاتا ہے اور کس کے یہاں لکڑی ،کوئلہ، مٹی کا تیل وغیرہ کھانا بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے ، ٹیلی فون ، موبائل ،انٹرنیٹ ، ٹیلی ویژن کی سہولت کس گھر میں ہے اور کہاں نہیں ہے ، سائیکل ، موٹر سائیکل ، جیپ ،کار کس کے گھر میں ہے اور کون سے لوگ ہیں جن کو یہ بنیادی سہولیات حاصل نہیں ہیں ، مردم شماری کے دوسرے دور میں انسانوں کی گنتی ہوتی ہے ، ان کی تعلیمی لیاقت کا پتہ لگایا جاتا ہے ، پیشہ اور کام کی جانچ ہوتی ہے،پھر سب کچھ پتہ لگانے کے بعد حکومت طے کرتی ہے کہ کس گاؤں میں کون سی سہولیات فراہم کی جائیں اور کتنی کافی ہوں گی ، درست مردم شماری سے عوام کے بہت سے مسائل آسانی کے ساتھ حل ہوسکتے ہیں اوراگر حکومت مناسب وقت پر سارے انتظامات کردے تو عوام و خواص کو بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رہنا پڑے گا ۔
بھارت میں ہر دس سال میں مردم شماری ہوتی ہے ، اب تک 15 مرتبہ مردم شماری ہو چکی ہے۔یہ سولہویں مردم شماری ہے ،آخری مردم شماری 2011ء میں ہوئی تھی۔2021 میں ہونی تھی لیکن کرونا بیماری کی وجہ سے یہ کام اب تاخیر سے ہورہا ہے ۔
یہ مردم شماری حکومت کی طرف سے ہورہی ہے, ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کوئی چیز غلط نہ بتائیں، سچ بولیں، نفع اور نقصان کی مالک صرف اللہ کی ذات ہے، اگر حکومت اور عوام نے انصاف کیا یعنی عوام نے سب کچھ سچ بتایا اور حکومت نے ضرورت کے اعتبار سے عوام کی خبر گیری کی اور ان کے ساتھ خیر خواہی کی تو یقیناً اس کا خوب فائدہ ملنے والا ہے، ہمارے مذہب اسلام میں بہت پہلے سے مردم شماری جاری ہے ، اسلام نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ ہم بھی اپنے آس پاس کے لوگوں کے حالات دریافت کرکے ان کی ضروریات پوری کریں ، چھوٹے بڑے کے حقوق، پڑوسی کے حقوق ، رشتہ داروں کے حقوق ، کمزوروں، غریبوں ، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کے حقوق ہم سب کو اسلام نے ہی بتائے ہیں اور تاکید کی ہے کہ ہم اپنی طاقت اور صلاحیت کے مطابق ہر ضرورت مند کی ضروریات کو پوری کریں ، اپنے لئے تو جانور بھی جی لیتے ہیں ، ہمیں دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہئے اور جہاں بھی رہیں اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے ۔
