ہندوستان کی دم توڑتی معیشت کی کہانی
شیل پھاٹا روڈ پر پڑی ٹوٹی کرسی کی زبانی
زین العابدین ندوی
مقیم حال ممبئی
آج صبح فجر بعد معمول کے مطابق ممبرا شیل پھاٹا ہائی وے پر چہل قدمی کرتے ہوئے روڈ پر سجائی گئی اس کرسی پر نظر پڑی ، نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی تصویر کیمرہ میں قید کر ہی لیا، کرسی کو دیکھتے ہی ملک کی موجودہ معیشت کی تصویر ذہن میں گھوم گئی ، ایک تو ٹوٹی ہوئی کرسی دوسرے لاٹھی کا سہارا جس سے لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے بھیا بھیا !!! ذرا سنبھل کر۔۔۔۔ یہاں سیور لائن کا ڈھکن کھلا ہوا ہے ۔۔
نفرت کی دنیا سے باہر آؤ اور ملک بیچنے والی سرکاروں سے سوال کرو بھائیو۔۔۔ ورنہ بہت جلد پورے ملک کی صورتحال اس کرسی سے بد تر ہو جائے گی یہ تو کم سے کم مسافروں کو راستہ میں کھلے سیور کے نالے سے بچا رہی ہے، ہم اور آپ اس قابل بھی نہ بچیں گے اور ملک کی کرسیاں جس پر آج ملک کے چھٹے چھٹائے بیٹھے ہیں اسے کسی اسکریپ والے کے ہاتھ بیچ کر نو دو گیارہ ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
جب جاگو تب ہی سویرا ۔۔۔۔۔دیر ہوئی تو نہ بچے گا ڈیرا
زین العابدین ندوی
مقیم حال ممبئی
