(پریس ریلیز لکشمی پور)دارالعلوم فیض محمدی کے بہی خواہ الحاج یاسین نور کے انتقال پر دارالعلوم فیض محمدی ہتھیاگڈھ ، مہراج گنج میں ایک تعزیتی نشست ادارہ کے سربراہ اعلی مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں اساتذہ دارالعلوم کے علاوہ مصلیانِ مسجد” النور،، نے شرکت کی، بعدازاں قرآن خوانی اور آیات کریمہ کے ذریعہ مرحوم کے حق میں ایصال ثواب کرکے دعائے مغفرت کی گئی۔
سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کہا کہ آج ایک ایسی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی جس کی زندگی خدمت، اخلاص، ایثار، وفا اور دین سے محبت کا روشن عنوان تھی۔ ان کا انتقال صرف ان کے اہلِ خانہ کا نہیں بلکہ مدارسِ اسلامیہ، علماء، طلبہ، دینی حلقوں بالخصوص دارالعلوم فیض محمدی اور ان تمام لوگوں کا سانحہ ہے جنہیں ان کی شفقت، محبت، سخاوت اور اخلاص سے فیض پہنچا۔ مرحوم الحاج یاسین نور صرف ایک خیر خواہ نہیں تھے بلکہ ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونے والے مخلص رفیق اور وفادار ساتھی تھے،جن کی شیریں گفتار اور پاکیزہ اخلاق سے میں بہت متاثر تھا، آپ کی کرم فرمائیوں اور محنتوں سے دارالعلوم میں ایک دارالاقامہ بھی ” رواق یاسین ،، نام سے تعمیر ہوا، اور آپ ہی کی توجہات سے دارالعلوم کی صحن میں جامع مسجد” النور ،، کی شکل میں ایک شاہ کار عمارت موجود ہے۔
ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ حاجی یاسین نور صاحب کی شخصیت کا ایک ایک پہلو انسان کو اخلاص، صبر اور خدمتِ خلق کا سبق دیتا ہے۔ عمر کے آخری حصے میں انہیں آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا اور پیرانہ سالی میں جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ یہ ایسا مرحلہ تھا کہ مضبوط سے مضبوط انسان بھی شکوہ و شکایت پر مجبور ہو جائے، لیکن جن لوگوں نے انہیں قریب سے دیکھا، وہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ان کی زبان پر کبھی حرفِ شکایت نہ آیا۔ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے، صبر و استقامت کا پیکر بنے رہے اور ہر حال میں مسکراتے رہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی بے پایاں مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی تمام دینی، رفاہی اور انسانی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔
دارلعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے اپنے بیان میں کہا کہ مرحوم مدارسِ اسلامیہ، دینی اداروں، علماءکرام اور طلبہ کے بڑے محسن تھے۔ دارالعلوم فیضِ محمدی ہتھیا گڈھ سمیت متعدد دینی ادارے ان کے احسانات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ وہ علماءسے بے حد محبت کرتے تھے، ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے اور دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ان کی سخاوت محض مال خرچ کرنے تک محدود نہ تھی بلکہ وہ دل سے لوگوں کے کام آتے، مسائل سنتے، رہنمائی کرتے اور ہر ممکن تعاون فرماتے تھے۔ مولانا ندوی نے کہا کہ اس غم اور مصیبت کی گھڑی میں دارالعلوم کا ایک ایک فرد دل کی گہرائیوں سے پسماندگان کے ساتھ ہے،اور تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہر نیکی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کے درجات کو جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، متعلقین، احباب اور تمام سوگوارکو صبرِ جمیل، حوصلہ اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔آمین۔
اس تعزیتی نشست میں دارالعلوم کے طلبہ کے علاوہ مفتی احسان الحق قاسمی، مولانا محمد صابر نعمانی ، مولانا ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی ، مولانا ظل الرحمان ندوی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا شکراللہ قاسمی، حافظ صلاح الدین ، ماسٹر فیض احمد ، ماسٹر جاوید احمد، ماسٹر محمد عمر خان، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر شمیم احمد ، حافظ وقاری محمد اسجد ، محمد قاسم وغیرہ موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے