لکھنؤ، 07 جولائی: راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج ملک میں جہاں بھی نظر ڈالی جائے، لوگ مذہب، مسلک، ذات پات اور فرقہ واریت کے نام پر ایک دوسرے سے الجھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ عوام کے حقیقی مسائل مسلسل پسِ پشت ڈالے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس ملک پر مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں نے حکمرانی کی۔ مغلوں نے تقریباً 800 سال، انگریزوں نے تقریباً 200 سال حکومت کی، اس کے بعد کانگریس نے کئی دہائیوں تک اقتدار سنبھالا اور 2014 سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کر رہی ہے، لیکن ان تمام ادوار کے باوجود کوئی مذہب ختم نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مذہب کا وجود خطرے میں پڑا۔ اس لیے عوام کو مذہب کے نام پر خوفزدہ کرنا حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی ایک حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔
محمد آفاق نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بعض سیاسی جماعتیں مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے چینی، عدم اعتماد اور نفرت کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے حالات ملک کی یکجہتی، بھائی چارے اور ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ جذباتی نعروں اور مذہبی منافرت کے بجائے اپنے بنیادی مسائل پر توجہ دیں۔ آج ملک کا نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہے، عام آدمی مہنگائی کی مار جھیل رہا ہے، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی ترقی جیسے اہم شعبے عوام کی توجہ چاہتے ہیں۔ اگر ہم انہی مسائل پر حکومتوں سے جواب طلب کریں گے تو ملک مضبوط ہوگا اور ہر شہری کی زندگی بہتر ہوگی۔محمد آفاق نے مزید کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کا اتحاد، بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور آئین ہے۔ ہمیں نفرت، تعصب اور تقسیم کی سیاست سے دور رہتے ہوئے محبت، امن، انصاف اور ترقی کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کی حمایت صرف مذہب، ذات یا فرقے کی بنیاد پر نہ کریں بلکہ اس کی کارکردگی، عوامی خدمات، روزگار، مہنگائی پر قابو پانے، بہتر تعلیم، صحت، خواتین کے تحفظ، نوجوانوں کے مستقبل اور ملک کی ترقی کے لیے کیے گئے کاموں کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ ایک باشعور ووٹر ہی ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ہندوستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔
