انڈین فرینڈس سرکل – ریاض کی ماہانہ ادبی نشست میں پیش کی گئی طرحی غزل پیش خدمت ہے- 

 عبدالرحمن راشد عمری

 

ہر آرزو کو وقف در یار کرچکے

"دل کو نیازحسرت دیدار کرچکے”

آئینہ وفا پہ غبار جفا نہیں

ہم خود نگاہ شوق کو بیمار کر چکے

آزار وقت سہہ کےبھی قائم ہےحوصلہ

غم کو رفیق جاں کا طلب گار کرچکے

آئیں نہ آئیں اب وہ نگاہوں کے روبرو

ہم چشم دل کو قابل دیدار کر چکے

رکھ کر چراغ دل سر طوفان آرزو

ظلمت کے ہر طلسم کو بیکار کرچکے

دنیا کی بے رخی سے نہ ٹوٹا کبھی وقار

ہم صبر کو ہی زینت کردار کرچکے

راشد غم حیات کو شعروں میں ڈھال کر

لب کو نیاز حسرت گفتار کر چکے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے