(فائل فوٹو: برکت اللہ بھوپالی)
ڈاکٹر حسن مدنی ندوی
(ریسرچر اسلامک یونیورسٹی انڈونیشیا)
انیسویں صدی کا عہد وسطی ہندوستان کے لیے ایک ایسا موڑ تھا جس سے واپسی ناگزیر تھی ۔ 1857ء کی جنگ آزادی، جسے انگریز نے "غدر” کا نام دیا، اپنی تمام تر بے مثال قربانیوں کے باوجود ناکام ہوئی، اور اس ناکامی نے برصغیر کی سیاسی، تہذیبی اور دینی زندگی کو یکسر بدل ڈالا۔ کمپنی کا اقتدار ختم ہوا تو براہ راست تاج برطانیہ کی حکمرانی قائم ہوگئی، مغل سلطنت کی مکمل تنسیخ ہوئی، اور مسلمانانِ ہند پر شکوک و شبہات کے ایسے بادل چھائے کہ ان کی معاشرت، تعلیم اور معیشت تینوں زخم خوردہ ہوگئیں۔ بھوپال کی چھوٹی سی مسلم ریاست، جہاں اس وقت سکندر بیگم اور بعد میں شاہ جہاں بیگم کی حکمرانی تھی، انگریزوں سے وفاداری کی پالیسی پر قائم تھی اور 1857ء کے طوفان سے محفوظ رہی۔ یہی وہ بظاہر پرسکون ریاستی فضا تھی جس کی گود میں 1854ء میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جو آگے چل کر اسی برطانوی اقتدار کے خلاف ساری دنیا میں علم بغاوت بلند کرنے والا تھا۔ گویا تاریخ نے ایک عجیب تضاد رچا، وفادار ریاست کی گود سے ایک عالمی باغی نے جنم لیا۔
اسی دور میں ہندوستان کی دینی و علمی زندگی میں دو بڑے دھارے نمودار ہوئے۔ ایک طرف سرسید احمد خان نے علی گڑھ کی بنیاد رکھ کر مغربی علوم سے مصالحت کی راہ اپنائی، دوسری طرف 1866ء میں دارالعلوم دیوبند کے قیام کے ساتھ ہی علماء کی وہ جماعت منظم ہوئی جس نے استعماری اقتدار کو دینی و سیاسی دونوں محاذوں پر للکارا۔ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی تحریک جہاد، جو بالاکوٹ کی چٹانوں میں 1831ء میں خون میں نہا چکی تھی، ابھی تک لوگوں کے دلوں میں زندہ تھی، اور اسی روایت کی ایک کڑی آگے چل کر مولانا محمود حسن اور ان کے شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی کی ریشمی رومال تحریک کی صورت میں ظاہر ہونے والی تھی۔ 1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس کا قیام، 1905ء میں تقسیم بنگال کے خلاف تحریک، اور اس کے بعد ابھرنے والی انقلابی لہریں، یہ سب اسی زمین کی کوکھ سے پھوٹنے والے مختلف چشمے تھے جن کا سرچشمہ ایک ہی تھا: غلامی کی زنجیر کاٹنے کی تڑپ۔
آزادی کے لیے جہاں ہم نے تاریخ کے صفحات میں مجاہدینِ آزادی کے بارے میں پڑھا ہے، اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قربانیاں تقریباً ہر میدان میں رہی ہیں۔ مگر ان کی وفا، ایثار اور بیش بہا خدمات کا ذکر جب ہم کرتے ہیں تو محض اس نظر سے کرتے ہیں کہ ملک و ملت کے لیے انہوں نے کیا کِیا، صرفِ نظر اس کے کہ بین الاقوامی سطح پر ان کی قربانیوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ چند ایک کے علاوہ، جیسے گاندھی، آزاد، جوہر اور نہرو، جن کی سیاسی پوزیشن اندرونِ ملک مستحکم تھی، یہ تو آزادی کے آخری، سب سے روشن ستارے ہیں۔ ان سے قبل بھی بہت سی ہستیاں گزری ہیں جن کا ذکر ہم سرسری طور پر کرتے ہیں، یا انہیں مخصوص تحریکوں، ریشمی رومال تحریک، سید احمد شہید کی تحریک، یا دیگر انقلابی دھاروں سے جوڑ کر ایک خاص پس منظر کے تحت یاد کرتے ہیں، جیسے چندر شیکھر آزاد یا بھگت سنگھ، محمود حسن۔ غرض ہر مکتبِ فکر نے اپنا ہیرو چن رکھا ہے، مگر کچھ ہستیاں ایسی ہیں جو گمنامی کے دھندلکوں میں کھو جاتی ہیں، حالانکہ ان کی قربانیوں کے چرچے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک تک پھیلے رہے۔ یہاں نہ صرف دینی و روحانی آزادی کی جنگ ہمارے بزرگوں نے لڑی، بلکہ سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سفارت کاری میں بھی جو کردار ان حضرات نے ادا کیا، اگر اس کا کچھ فیصد حصہ بھی ہمارے نصیب میں آجاتا تو ملتِ اسلامیہ ہندیہ اس قدر بحران کا شکار نہ ہوتی۔ سفارت کاری کا اجتماعی زندگی میں وہی مقام ہے جو سیاست کا براہ راست ہے؛ یہ اسی کا ضمیمہ، اسی کی ایک شاخ ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے بسا اوقات وہ مسائل حل ہوئے جو شاید تلوار اور توپ سے بھی حل نہ ہوپاتے۔ صلح حدیبیہ کی مثال سامنے رکھیے: بظاہر ایک نامساعد معاہدہ، جسے بعض صحابہ کرام نے بھی ناپسند کیا، مگر اسی صلح کی چھتری تلے دو برس کے اندر اسلام اتنا پھیلا جتنا برسوں کی جنگوں میں نہ پھیل سکا تھا، اور بالآخر فتح مکہ خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر مکمل ہوئی۔ اسی طرح بیسویں صدی میں کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے (1978ء) نے مصر اور اسرائیل کے درمیان تین دہائیوں کی متواتر جنگوں کا وہ سلسلہ ختم کر دیا جسے چار بڑی جنگیں بھی ختم نہ کرسکی تھیں۔ گویا سفارت کاری وہ خاموش تلوار ہے جو بغیر خون بہائے فیصلے کن معرکے سر کرلیتی ہے، اور یہی وہ میدان ہے جس میں مولانا برکت اللہ بھوپالی کی زندگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
تاریخِ ہند کا وہ دور انتہائی کرب ناک تھا جب 1857 کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد برصغیر پر برطانوی سامراج کا تسلط مکمل ہو چکا تھا۔ دہلی اور لکھنؤ جیسے عظیم الشان علمی و تہذیبی مراکز اجڑ چکے تھے اور ہر طرف مایوسی، جبر اور غلامی کا گہرا سایہ چھایا ہوا تھا۔ ایسے پر آشوب اور تاریک وقت میں وسطی ہند کی ریاست بھوپال علم و فضل کا ایک نیا اور مستحکم مرکز بن کر ابھری۔ عہدِ شاہجہانی میں بیگم صاحبہ بھوپال اور ان کے شوہر نواب صدیق حسن خان کی علم پروری اور قدر دانیوں نے ہر مکتبِ فکر کے اربابِ فضل و کمال کو بھوپال میں جمع کر دیا تھا۔ نواب صدیق حسن خان، جو خود ایک عظیم دینی مصنف اور سلفی تحریک کے بانیوں میں سے تھے، نے بھوپال کو اس علمی تحریک کا مرکز بنا دیا تھا جس میں براہِ راست قرآن و سنت پر عمل کی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ وہی علمی، روحانی اور کسی حد تک برطانوی سامراج کے خلاف خفیہ جذبات رکھنے والا ماحول تھا جس میں مولانا برکت اللہ بھوپالی نے ہوش و شعور کی آنکھیں کھولیں۔
مولانا برکت اللہ کی پیدائش 7 جولائی 1854ء کو بھوپال کے محلہ اٹاوہ میں ہوئی۔ ایک متوسط، بلکہ نچلے متوسط گھرانے کا یہ بچہ ابتدا ہی سے باغیانہ مزاج لیے پیدا ہوا تھا۔ بھوپال کے دینی ماحول میں تعلیم پائی،رسمی علوم سے فراغت کے بعد مولانا نے بھوپال میں مدرس کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس دور میں عام مولویوں کے نزدیک انگریزی پڑھنا معیوب یا حرام سمجھا جاتا تھا، لیکن مولانا برکت اللہ، جو عیسائی مشنریوں کی سرگرمیوں اور برطانوی سامراج کے ہتھکنڈوں کا بغور مشاہدہ کر رہے تھے، اس نتیجے پر پہنچے کہ دشمن کو اس کی زبان اور اس کے علوم کے بغیر شکست نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مغربی اقوام کی استعماری پالیسیوں کو سمجھنے کے لیے انگریزی پر عبور ناگزیر ہے۔ اور 1882ء میں سید جمال الدین افغانی سے ملاقات کی، جن کے افکار نے نوجوان برکت اللہ کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑا اور حریت کی وہ آگ بھڑکا دی جو تاحیات نہ بجھ سکی۔ پھر اچانک، 1883ء میں، وہ بھوپال سے پراسرار طور پر غائب ہوکر بمبئی جا پہنچے، جہاں ولسن ہائی اسکول کھیت واڑی میں داخلہ لیا، ایک ایسے طالب علم کی حیثیت سے جو عمر میں اپنے ہم جماعتوں سے کہیں بڑا تھا، مگر جسے علم کی پیاس نے ابتدائی جماعتوں میں بیٹھنے سے بھی گریز نہ دلایا۔ کسی مسٹر اسکاٹ سے انگریزی کے نجی اسباق کے عوض اردو پڑھانے کا معاہدہ کیا، اور محض تین برس کی محنت میں یونیورسٹی داخلے کے امتحان کے قابل ہوگئے۔ 1887ء میں لندن پہنچے اور وہاں عربی، فارسی اور اردو کے نجی معلم کی حیثیت سے کام کرنے لگے، اور اسی دوران خود جرمن، فرانسیسی اور جاپانی زبانیں بھی سیکھ لیں۔یوں ایک ایسا انسان تیار ہوا جس کی زبان ہی اس کا پاسپورٹ بن گئی، وہ زبان جو مشرق و مغرب کی سرحدوں کو بیک وقت عبور کر سکتی تھی۔
لندن میں قیام کے دوران برکت اللہ کا رابطہ ہندوستانی انقلابیوں کے مرکز "انڈیا ہاؤس” سے ہوا، اور 1897ء میں وہ مسلم پیٹریاٹک لیگ کے اجلاسوں میں شاملی کرشن ورما جیسے انقلابیوں کے ہمراہ نظر آتے ہیں۔ اسی زمانے میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے ان کی زندگی کو ایک نئی سمت دی، 1895ء میں انگریز نو مسلم عبد اللہ قلیم نے انہیں لیورپول مسلم انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے کی دعوت دی۔
یہاں 1893ء سے 1896ء تک وہ امام اور معلم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، لیکن ان کا اصل کام دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں اور اہلِ خیر کے نام اردو، عربی اور فارسی میں خط و کتابت کی ایک مہم چلانا تھا۔ اسی مکتوب نگاری کی برکت تھی کہ افغان دربار سے ان کا سب سے بڑا کامیاب رابطہ قائم ہوا، اور نتیجتاً افغان ولی عہد نے 1895ء میں مسجد کے دورے پر آکر اس کی تعمیر کے لیے بھاری عطیہ دیا۔ اسی برس 1895ء میں برکت اللہ کی شناسائی امیر افغانستان کے بھائی نصر اللہ خان سے ہوئی، یہ وہ رشتہ تھا جو بیس برس بعد کابل کی سرزمین پر عبوری حکومتِ ہند کے قیام کی راہ ہموار کرنے والا تھا۔لیورپول یونیورسٹی کے اورینٹل کالج میں بھی درس و تدریس کے فرائض انجام دیے، مگر ادارے کے طرزِ عمل سے بتدریج دوری اختیار کرلی۔
ایک عرصے بعد لندن کی گھٹی ہوئی اور سامراجی فضاؤں سے نکل کر مولانا نے نئی دنیا، امریکہ کا رخ کیا۔ ان کا امریکہ کا یہ پہلا سفر ایک امریکی سیاح مسٹر الیگزینڈر ویب کی دعوت پر ہوا تھا۔ امریکہ کی آزاد فضا میں انہیں اپنے افکار کو مزید وسعت دینے کا موقع ملا۔ وہیں سے انہوں نے جون 1905 میں مولانا حسرت موہانی کے مشہور رسالے "اردوئے معلیٰ” (علی گڑھ) کے لیے ایک انتہائی بصیرت افروز اور تاریخی مقالہ تحریر کیا۔ ہندوستان کی آزادی سے نصف صدی قبل لکھے گئے اس مقالے میں مولانا نے حیرت انگیز سیاسی اور معاشی شعور کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ کس طرح برطانوی جونکیں ہندوستان کا خون چوس رہی ہیں، اور کس طرح انگلستان کی پارلیمنٹ نے ظالمانہ ٹیکس لگا کر ہندوستان کی صدیوں پرانی صنعت و حرفت کو تباہ کر دیا ہے۔ اسی مقالے میں انہوں نے اس دور میں ایک انتہائی غیر مانوس اور جرات مندانہ آواز بلند کی کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کا باہمی اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح 1857 میں سب نے مل کر جدوجہد کی تھی، اب پھر وقت آ گیا ہے کہ اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے یا دیگر مشترکہ جدوجہد کے ذریعے سامراج کا مقابلہ کیا جائے۔
بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا تو برکت اللہ کی سفارت کاری مشرقِ بعید کی طرف بڑھی۔ 1909ء میں جاپان پہنچے اور ٹوکیو یونیورسٹی میں مشرقی زبانوں کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ وہاں "اسلامک فریٹرنٹی” کے نام سے ایک جریدہ جاری کیا، اور بعد ازاں "الاسلام” کے نام سے ایک اخبار، جسے برطانوی ہند میں ممنوع قرار دے دیا گیا۔ نتیجتاً برطانوی دباؤ کے تحت 1914ء میں ان کی یونیورسٹی کی ملازمت ختم کردی گئی۔یہ خود ایک لمحہ فکریہ ہے،ایک اکیلے عالم کے قلم سے سلطنتِ برطانیہ خائف ہوگئی تھی۔ لیکن اس برطرفی نے برکت اللہ کا حوصلہ توڑنے کے بجائے انہیں مزید آزاد کردیا انہوں نے پوری دنیا کو اپنا میدانِ عمل بنا لیا۔ 1913ء میں وہ سان فرانسسکو میں غدر پارٹی کے بانی اراکین میں شامل ہوئے، جس نے پنجابی تارکینِ وطن کی انقلابی توانائی کو ایک منظم تحریک کی شکل دی۔ غدر پارٹی کا واضح نصب العین برطانوی حکومت کا مسلح بغاوت کے ذریعے تختہ الٹنا اور ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ جمہوری حکومت کا قیام تھا۔ مولانا برکت اللہ اس پارٹی کے نمایاں ترین رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے امریکہ اور کینیڈا کے طوفانی دورے کیے، وہاں مقیم ہزاروں سکھ، ہندو اور مسلمان تارکینِ وطن کے دلوں میں حریت کی آگ بھڑکائی، اور اخبار "غدر” کے ذریعے شعلہ بار مقالات تحریر کیے۔ مولانا کی شائستگی، فراخ دلی اور وسیع النظری نے غدر پارٹی کے تمام مذاہب کے ارکان میں انہیں ایک قابلِ احترام قائد بنا دیا تھا، برکت اللہ نے، اپنی عمر اور علمی وقار کے ساتھ، اس نوجوان تحریک اور پرانے پان اسلامی نیٹ ورک کے درمیان ایک زندہ پل کا کام دیا۔
پھر 1914ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑی، اور دنیا کا نقشہ بدلنے لگا۔ جرمنی میں مقیم ہندوستانی انقلابیوں نے "برلن کمیٹی” کے نام سے ایک تنظیم بنائی، اور برکت اللہ کو بھی اس کارواں میں شامل کیا گیا۔ قیصر ولیم دوم کی جانب سے راجا مہندر پرتاپ کی مہم کی تائید میں پیغامات بھجوائے گئے، اور یوں ایک شاہی دربار سے دوسرے شاہی دربار تک آزادی کا پیغام پہنچانے کا کٹھن سفر شروع ہوا۔ 1915ء میں نیدرمائر- ہینٹگ مہم کے تحت، جسے "کابل مشن” بھی کہا جاتا ہے، برکت اللہ، راجا مہندر پرتاپ اور دیگر برلن کمیٹی کے اراکین نے فارس کے صحراؤں کو عبور کرکے افغانستان کا رخ کیا۔ یہ سفر جان جوکھوں کا تھا، کبھی برطانوی اور روسی جاسوسوں سے بچنا، کبھی سنگلاخ صحراؤں میں دنوں تک پانی کی تلاش۔ اکتوبر 1915ء میں پغمان کے مقام پر امیر حبیب اللہ خان سے آٹھ گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، جس میں برکت اللہ نے امیر کو برطانیہ کے خلاف اعلانِ جنگ کی دعوت دی اور ترک و جرمن افواج کو افغانستان سے گزرنے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی۔ امیر، جو نہایت محتاط طبیعت کے مالک تھے، نے اس وفد کو تاجروں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پسند کے مطابق ہی سودا کریں گے، مگر اس محتاط رویے کے باوجود دروازہ بند نہ ہوا۔
اور پھر وہ تاریخی دن آیا جس نے ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی کو ایک نیا رخ دیا۔ یکم دسمبر 1915ء کو، راجا مہندر پرتاپ کی اٹھائیسویں سالگرہ کے دن، کابل میں عبوری حکومتِ ہند کا اعلان ہوا، راجا مہندر پرتاپ صدر، مولانا برکت اللہ وزیراعظم، اور مولانا عبید اللہ سندھی وزیرِ داخلہ مقرر ہوئے۔ یہ صرف ایک علامتی اقدام نہ تھا، یہ غلام ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک آزاد، خودمختار حکومت کا تصور تھا جو اپنی ہی سرزمین سے باہر، مگر اپنے ہی عوام کے نام پر قائم ہوئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی زمانے میں شیخ الہند مولانا محمود حسن اور ان کے رفیقِ خاص مولانا عبید اللہ سندھی کی ریشمی رومال تحریک بھی پوری آب و تاب سے جاری تھی۔ مولانا عبید اللہ سندھی کابل میں امیر افغانستان سے روابط استوار کررہے تھے جبکہ شیخ الہند حجاز جاکر ترکوں سے مدد طلب کررہے تھے، اور انہی خطوط کی صورت میں، جو ریشم کے کپڑے پر لکھے جاتے، غالب نامہ کے نام سے مشہور خفیہ پیغامات کا سلسلہ چلا۔ یوں دیوبند کی علمی روایت اور برلن کمیٹی کی جدید انقلابی سفارت کاری ایک ہی نکتے پر آکر مل گئیں، کابل کی گلیوں میں، ایک ہی مقصد کے لیے۔ برکت اللہ نے افغان دربار کے سرکاری اخبار "سراج الاخبار” کی ادارت میں محمود طرزی کے دست و بازو کا کردار بھی ادا کیا، اور اسی اخبار کے ذریعے ہندوستان کی آزادی کا پیغام سرحد کے اس پار پہنچایا۔
لیکن سیاست کی راہیں کبھی سیدھی نہیں ہوتیں۔ 1917ء میں امیر حبیب اللہ خان ناراض ہوگئے اور برکت اللہ اور راجا مہندر پرتاپ کو افغانستان چھوڑنے کا کہا گیا۔ یہیں سے برکت اللہ کی زندگی کا وہ باب شروع ہوتا ہے جو ان کی سفارت کاری کی سب سے بلند پرواز ثابت ہوا۔
1917 میں جب روس میں بالشویک انقلاب برپا ہوا تو عالمی سیاست کا رخ یکسر تبدیل ہو گیا۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی، جو ہر بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے پر عقاب جیسی نظر رکھتے تھے، نے زارِ روس کے زوال کو مشرقی اقوام اور بالخصوص ہندوستان کی آزادی کے لیے ایک سنہری موقع سمجھا۔ وہ کابل سے دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے ماسکو پہنچ گئے۔ یہ ان کی عظیم سفارتی کامیابیوں میں سے ایک تھی کہ 1919 میں انہوں نے سوویت روس کے بانی اور عظیم اشتراکی رہنما ولادیمیر لینن سے ملاقات کی۔ روسی اخبار "پراودا” نے ان کا ایک تفصیلی انٹرویو شائع کیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ گو کہ وہ اشتراکیت (کمیونزم) کے حامی نہیں اور اسلام کے معاشی و سماجی نظام پر کامل یقین رکھتے ہیں، تاہم برطانوی سامراجیت کے خلاف جنگ میں سوویت روس اور مشرقی اقوام کے مفادات مشترک ہیں۔ انہوں نے لینن کو قائل کیا کہ جب تک ہندوستان برطانوی پنجۂ استبداد سے آزاد نہیں ہوتا، ایشیا میں سامراجیت کا خاتمہ ناممکن ہے۔ اس دور میں یہ بھی اطلاعات ملتی ہیں کہ انہوں نے یورپ کے دیگر طاقتور رہنماؤں، بشمول اٹلی وغیرہ کے سیاسی زعما، تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ ہندوستان کے حق میں ہر ممکنہ عالمی طاقت کا اخلاقی و مادی تعاون حاصل کیا جا سکے۔ وہ دنیا کے جس دارالحکومت میں بھی گئے، چاہے وہ برلن ہو، ماسکو ہو، پیرس ہو، ٹوکیو ہو یا سان فرانسسکو، ان کی حیثیت عام آدمی کی نہیں تھی، بلکہ وہ برطانوی ہندوستان کی مقید قوم کے ایک باوقار اور آزاد روح سفارت کار کی حیثیت سے دنیا کے سامنے کھڑے ہوئے۔روس کے سفر کے دوران، ترکستان کے صحراؤں اور شہروں میں گھومتے ہوئے، برکت اللہ نے فارسی زبان میں ایک رسالہ تحریر کیا جس کا انگریزی عنوان "بالشیوزم اینڈ دی اسلامک باڈی پولیٹک” رکھا گیا، جو انہوں نے وسط ایشیا بھر میں تقسیم کیا، اور جس کی ایک نقل بالآخر برطانوی خفیہ ایجنسی کے ہاتھ لگی۔ اس رسالے میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اشتراکیت کا وہ روحِ رواں، مظلوم مزدور اور کسان کو عزت و انصاف دلانا، دراصل اسلام کے پیغام سے کوئی اجنبی چیز نہیں، بلکہ اسی عدل و مساوات کی ایک اور صورت ہے جس کی طرف انبیاء نے دعوت دی تھی۔ یہ ایک نہایت جرات مندانہ فکری کاوش تھی، جس نے پان اسلامیت اور اشتراکیت کے درمیان ایک ایسا مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کی جو اپنی مثال آپ تھا۔ برطانوی دفتر خارجہ کی ایک رپورٹ نے برکت اللہ کو پان اسلامی تحریک، "ایشیا برائے ایشیائی باشندے” کے تصور، اور ہندوستانی بغاوت، ان تینوں مختلف دھاروں کے درمیان ایک کڑی قرار دیا، جبکہ ایک جرمن سفارت کار نے ان کے بارے میں لکھا کہ وہ سب سے پہلے قوم پرست تھے اور اس کے بعد مسلمان، ایسی گواہیاں جو خود ان کے مخالفین کی زبان سے ان کی وسعتِ نظر کی تصدیق کرتی ہیں۔
برکت اللہ کی سفارت کاری کسی خزانے، کسی فوج، یا کسی مستقل سرزمین کے سہارے نہ تھی۔ ان کے پاس بس ایک زبان تھی، ایک قلم تھا، اور سرحدوں کو عبور کرنے کا عزم تھا۔ انگلستان، جرمنی، ترکی، افغانستان، روس، وسط ایشیا، جاپان، امریکہ، یہ سب اسٹیشن تھے اس ایک سفر کے جس کا مقصد ایک ہی تھا: ہندوستان کی آزادی کو ایک مقامی مسئلے سے نکال کر عالمی ضمیر کے سامنے پیش کرنا۔ یہی وہ کارنامہ ہے جسے تاریخ کے عام طالب علم اکثر نظر انداز کردیتے ہیں کہ آزادی کی جنگ صرف دلی کی گلیوں یا پنجاب کے میدانوں میں نہیں، بلکہ ماسکو کے دربار، برلن کی راہداریوں اور کابل کے محلات میں بھی لڑی گئی، اور برکت اللہ اس محاذ کے صف اول کے سپاہی تھے۔
امان اللہ خان کے دورِ اقتدار میں افغانستان کی برطانیہ سے صلح ہوگئی تو کابل مشن کی سیاسی افادیت کمزور پڑنے لگی، مگر برکت اللہ کا حوصلہ ماند نہ پڑا۔ 1926ء میں وہ ایک بار پھر امریکہ لوٹے، اور وہاں مشہور افریقی نژاد رہنما مارکس گاروے کے ساتھ مل کر ایک ایسی جدوجہد میں شریک ہوئے جس کا مقصد استعمار کے خلاف عالمی مظلوموں کے اتحاد کو فروغ دینا تھا۔ ان کی زندگی کی آخری جھلک نہایت پرسوز ہے، 1927ء کی ایک گرم شام میری ول، کیلیفورنیا کے ایک ہال میں آٹھ سو سے زائد ہندوستانیوں کا مجمع جمع تھا۔ ایک بوڑھا، نحیف شخص اسٹیج پر آیا، ہمیشہ کی طرح پرجوش انداز میں تقریر شروع کی، مگر اچانک رک گیا، الفاظ اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ آواز جس نے کبھی برطانوی سلطنت کے ایوانوں کو لرزا دیا تھا، اب خاموش ہونے والی تھی۔ 20 ستمبر 1927ء کو سان فرانسسکو میں ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے جنازے میں ہندو، سکھ اور مسلمان سب شریک ہوئے، گویا وہی اتحاد جس کی وہ ساری زندگی تبلیغ کرتے رہے، ان کی وفات پر عملی صورت میں سامنے آگیا۔ ان کی میت سان فرانسسکو سے سیکرامنٹو لے جائی گئی، جہاں انہیں مسلم قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا اور وہ آج بھی اپنی مادرِ وطن سے ہزاروں میل دور، ایک اجنبی سرزمیں میں آرام فرما ہیں۔
اگر ہم برکت اللہ بھوپالی کی زندگی کو ایک جملے میں سمیٹنا چاہیں تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان کا وجود خود ایک متحرک سفارت خانہ تھا، بغیر عمارت، بغیر پرچم، بغیر تنخواہ کے عملے کے۔ ان کی آزادی کی آرزو، جس کی خاطر انہوں نے اپنا سارا جیون بیرونِ وطن گزار دیا، بالآخر ان کی وفات کے بیس برس بعد، 1947ء میں پوری ہوئی، اگرچہ وہ خود اسے دیکھنے کے لیے موجود نہ رہے۔ 1988ء میں ان کے اعزاز میں بھوپال یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے برکت اللہ یونیورسٹی رکھا گیا، جو ان کی خدمات کا ایک بہت ہی چھوٹا سا اعتراف ہے۔ مگر جس مقصد کے لیے انہوں نے پان اسلامیت اور اشتراکیت کے درمیان مکالمہ قائم کرنے کی کوشش کی، جس فرقہ وارانہ تعصب سے بالاتر عالمی مسلم یکجہتی کا خواب انہوں نے دیکھا، جس آزاد روح، نہ کسی سلطنت کی محتاج، نہ کسی نظریے کی اسیر کی وہ تجسیم تھے، وہ مقاصد آج بھی، سو برس گزر جانے کے باوجود، ادھورے ہیں۔ ملتِ اسلامیہ آج بھی اس بات کی محتاج ہے کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے صرف داخلی سیاست پر انحصار نہ کرے، بلکہ برکت اللہ کی طرح دنیا کے ہر دربار، ہر زبان، اور ہر افکار کے دھارے میں اپنی بات پہنچانے کا حوصلہ پیدا کرے۔ ایک ایسا انسان جس نے بھوپال کی گلیوں سے کریملن کے دروازوں تک کا سفر محض اپنی زبان اور اپنے یقین کے سہارے طے کیا، اس سے سیکھنے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی ہے، اور شاید یہی اس عظیم مردِ مجاہد کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا کہ ہم اس کے نامکمل خوابوں کی تکمیل کا بیڑا اٹھائیں۔

