(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر
جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت ضلع ہیڈ کوارٹر سمیت ضلع بھر کے شہر شہرت گڑھ، ڈومریا گنج، اٹوا، بانسی اور دیگر قصبوں میں مسلمانوں نے پرامن اور روایتی انداز میں جلوس نکالا اور اپنے نبی کی یاد اورشان میں قصیدے پڑھنے کے بعد لوگوں نے ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کا عہد کیا۔
ربیع الاول کا چاند نظر آتے ہی مسلمان مسجد، مدرسوں اور اپنے گھروں کو رنگ برنگے جھنڈیوں اور قمقموں سے سجاتے ہیں اور اسلام کا پرچم لہراتے ہیں۔ اپنے نبی کی شان میں درود و سلام کے ہدیے پیش کرتے ہوئے جلوس محمدی میں شرٹ کرتے ہیں اور جو ش و خروش بھرے نعرے سے اپنے ایمان اور عقیدے میں نئ جان ڈالنے کا کام کرتے ہیں۔
جلوس شہر سے ہوتا ہوا مرکزی چوک پر پہنچنے کے بعد نعت اور تقریر ہوئی جہاں بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور خواتین نے دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنے نبی کی حمد و ثنا سنیں اور پڑھیں اور ان پر عمل کرنے کا عہد کیا۔
آخر میں صلاۃ و سلام کے بعد پورے ملک اور ملت کی خیر خواہی کے لیے دعا ئیں مانگی گئی اس کے بعد مٹھائیاں تقسیم کرنے کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔
جلوس میں گنبد خضرہ اور کعبہ شریف کی خوبصورت جھانکیاں پیش کی گئیں جو واقعی دلکش لگ رہی تھیں۔ چھوٹے بچوں کا جوش و خروش قابل دید تھا جو چلچلاتی ہوئی دھوپ میں اپنے بڑوں کے قدم سے قدم ملاتے ہوئے پورے جلوس میں چل رہے تھے۔
جلوس میں پانی، شربت، کولڈ ڈرنکس، بسکٹ، پھل اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ جلوس کے دوران بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات رہے۔
جنہیں لوگوں کو پیدل و سواریوں کے چلنے میں سہولیات فراہم کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
جلوس میں تتری جامع مسجد کے امام سید سہیل احمد، مولانا برکت علی، حافظ و قاری اسلام الدین، حافظ و قاری قطب الدین چشتی، مولانا شاکر علی نوری مصباحی، ڈاکٹر حافظ و قاری مولانا توصیف احمد علوی، مولانا ارشاد احمد نظامی، مولانا کلیم الدین، مولانا اسماعیل, مولانا مہدی حسن سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کیے جن میں شہر کے مخصوص شخصیات سپا لیڈر
محمد جمیل احمد صدیقی، صادق علی، مقصود عالم عرف چری پردھان، رمضان علی، سہراب علی، سلیمان، نظام الدین، گودھری، ارشد، چھوٹو، بدکو، اشرف علی، انسان علی، محمد خلیل، عطی اللہ، عبدالمبین، جمییل احمد, محمد آصف احمد رضا، محمد نسیم وغیرہ کثیر تعداد میں لوگوں نےشرکت کیا ۔

