"سرسید خان کا علمی ,ادبی اور اصلاحی تعاون لا ثانی” 

سہارنپور (احمد رضا): سر سید احمد خان کی ادبی تحریک کے اثرات بعد کے ادیبوں اور مفکرین تک پہنچے ان کی تحریک نے اردو ادب میں حقیقت پسندی، مقصدیت، سماجی شعور اور اصلاحی فکر کو فروغ دینے کے لیے سازگار فضا پیدا کی اردو نثر کی جدید تشکیل اور علمی مباحث کے فروغ میں ان کی کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی شخصیت اس بات کی مثال ہے کہ ادب جب زندگی کے حقیقی مسائل سے جڑتا ہے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اردو زبان کے طلبہ کو اپنی زبان کی ادبی روایت سے گہرا تعلق قائم رکھنا چاہیے سر سید احمد خان، مولانا حالی، شبلی نعمانی اور دیگر اہلِ علم کی تحریروں کا مطالعہ طلبہ کے فکری اور لسانی شعور کو وسعت دے سکتا ہے اس لئے لازم ہے کہ اردو زبان و ادب سے ہم مضبوطی کے ساتھ منسلک ہو جائیں تاکہ ہماری تہذیب اور شناخت زندہ رہے ، اسلامیہ ڈگری کالج، سہارنپور میں آج  ایک خاص تقریب عمل میں آئی جس میں عظیم مصلح، ماہرِ تعلیم، مفکر اور اردو زبان و ادب کے سرپرست سر سید احمد خان کی یاد میں  خصوصی علمی و ادبی  تقاریر اور بیانات کا اہتمام کیا گیا اس پر وقار نشست کا مقصد سر سید احمد خان کی ہمہ جہت شخصیت، ان کی تعلیمی و اصلاحی تحریک، اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے ان کی خدمات اور ملت کی فکری و سماجی بیداری میں ان کے تاریخی کردار کو اجاگر کر نسل نو تک پہنچانا تھا  مقررین کی کوششوں سے تقریب میں سر سید کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور نئی نسل کو ان کے افکار و نظریات سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔پروگرام کی صدارت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آر، کے شرما نے انجام دی اس موقع پر کالج کے نائب سکریٹری جناب قاضی شوکت حسین صاحب نے سر سید احمد خان کی شخصیت اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سر سید برصغیر کی تاریخ کی ان عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کے حالات کو سمجھتے ہوئے قوم کی تعلیمی، فکری اور سماجی ترقی کے لیے غیر معمولی جدوجہد کی۔ انہوں نے تعلیم کو ترقی اور کامیابی کی بنیادی کنجی قرار دیتے ہوئے نئی نسل کو جدید علوم کے حصول، اخلاقی تربیت اور مثبت طرزِ فکر اپنانے کی ترغیب دی۔ ان کی فکر کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راستہ علم، شعور، محنت اور وقت کے تقاضوں کو سمجھنے سے ہو کر گزرتا ہے قاضی شوکت حسین صاحب نے مزید کہا کہ سر سید احمد خان کی زندگی آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے جس دور میں تعلیم کے فروغ اور فکری بیداری کی تحریک شروع کی، اس وقت حالات نہایت دشوار تھے، لیکن انہوں نے مشکلات سے گھبرانے کے بجائے اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ان کے زمانے میں تھا نشست میں شعبۂ اردو کے پروفیسر جناب شعیب اسلام فردوسی نے سر سید احمد خان کی زندگی، ان کی علمی و ادبی خدمات اور اردو زبان و ادب کے لیے ان کی کوششوں پر ایک مفصل اور فکر انگیز گفتگو کی۔ انہوں نے سر سید کی ابتدائی زندگی، علمی دلچسپیوں، سماجی شعور، اصلاحی جدوجہد اور تعلیمی تحریک کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خان محض ایک مصلح یا ماہرِ تعلیم نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے دور اندیش مفکر تھے جنہوں نے اپنے عہد کے مسائل کو گہرائی سے محسوس کیا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے پروفیسر شعیب اسلام فردوسی نے کہا کہ سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی و تہذیبی ماحول سے تھا جہاں ادب، علم اور روایت کو اہمیت حاصل تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں مختلف نشیب و فراز دیکھے اور اپنے زمانے کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی حالات کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ 1857ء کے واقعات نے برصغیر کے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان حالات کے بعد سر سید نے اس حقیقت کو شدت سے محسوس کیا کہ قوم کی ترقی اور معاشرتی استحکام کے لیے تعلیم، علمی بیداری اور جدید علوم سے واقفیت ناگزیر ہے۔ یہی احساس آگے چل کر ان کی تعلیمی اور اصلاحی تحریک کی بنیاد بنا انہوں نے مزید کہا کہ سر سید احمد خان نے تعلیم کے میدان میں ایک نئے طرزِ فکر کو فروغ دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ وقت کے تقاضوں کو سمجھے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان مذہبی اور اخلاقی اقدار سے وابستہ رہتے ہوئے جدید سائنسی علوم، تاریخ، فلسفہ اور دیگر علمی شعبوں میں بھی مہارت حاصل کریں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے جدید تعلیم کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ ان کی تحریک نے برصغیر کے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے اور جدید تعلیمی اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا پروفیسر شعیب اسلام فردوسی نے سر سید احمد خان کی تعلیمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علی گڑھ کے قیام کو ان کی زندگی کا ایک اہم کارنامہ قرار دیا۔ یہ ادارہ آگے چل کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت میں ایک عظیم علمی مرکز بنا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید کا مقصد محض ایک تعلیمی ادارہ قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ ایک ایسی فکری فضا تشکیل دینا چاہتے تھے جس میں طلبہ جدید علوم حاصل کر سکیں، زمانے کے تقاضوں کو سمجھ سکیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ ان کی تعلیمی تحریک نے ایک ایسی روایت کو جنم دیا جس کے اثرات آج بھی برصغیر کے علمی و تعلیمی منظرنامے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں اپنی گفتگو کے اہم حصے میں پروفیسر شعیب اسلام فردوسی نے اردو زبان و ادب کے لیے سر سید احمد خان کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سر سید اردو نثر کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اردو زبان کو محض جذبات کے اظہار کا وسیلہ بنانے کے بجائے اسے سنجیدہ علمی مباحث، سماجی اصلاح، تاریخی تحقیق، سائنسی معلومات اور عقلی استدلال کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔ ان کی نثر میں سادگی، وضاحت، مقصدیت اور استدلال کو خاص اہمیت حاصل ہے انہوں نے کہا کہ سر سید کی ادبی خدمات کو سمجھنے کے لیے ان کی نثری تحریروں، علمی مضامین اور اصلاحی کوششوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے اردو نثر کو نئے موضوعات سے آشنا کیا اور ایسی تحریری روایت کو فروغ دیا جس میں معاشرتی مسائل پر غور و فکر، تعلیم کی اہمیت، مذہبی و سماجی مباحث اور عقل و دلیل کی بنیاد پر گفتگو کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی تحریروں نے اردو نثر کو جدید فکری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا شعبہ اردو کے تمام طلبہ و طالبات نے اس مؤقعے پر اپنا اپنا مقالہ پیش کیا جس میں سر سید کی زندگی کے تمام گوشوں کو اجاگر کیا گیا… جس میں اول مقام بی اے اول سیمسٹر کی طلبہ اقرا نوشاد نے اول مقام، کاشف ملک نے دوسرا اور آصف نے تیسرا مقام حاصل کیا… اس کے علاوہ عامر ولد تنویر احمد، ثانیہ، زینب، اُمِّ ابہیہ، ثاقب، منزنا، شفا، وغیرہ نے اپنے اپنے مقالے پیش کئے…۔۔۔طلبہ کو  ڈگری کالج انتظامیہ ، پرنسپل اور اسٹاف کی جانب سے انعامات بھی پیش کئے گئے… آخر میں پروفیسر شعیب اسلام فردوسی نے سر سید کی صحافتی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ رسالہ تہذیب الاخلاق ان کی اصلاحی تحریک کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ اس رسالے کے ذریعے انہوں نے معاشرتی برائیوں، تعلیمی پسماندگی، غیر ضروری رسم و رواج اور فکری جمود جیسے مسائل پر گفتگو کی۔ تہذیب الاخلاق نے اردو نثر میں اصلاحی اور تنقیدی رجحانات کو تقویت دی اور قارئین کو اپنے معاشرے کی خامیوں پر غور کرنے کی دعوت دی۔ سر سید کی تحریروں میں اختلافِ رائے کے باوجود دلیل، مشاہدے اور غور و فکر کی اہمیت نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ  اردو زبان میں موجود علمی، ادبی اور تہذیبی سرمایہ نئی نسل تک پہنچانا اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اسے مطالعے، تحقیق، تحریر اور علمی مکالمے میں بھرپور طور پر استعمال کیا جائے اس خصوصی نشست کے ذریعے سر سید احمد خان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ نشست میں اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ سر سید کی زندگی ہمیں عزم و استقلال، علم دوستی، اصلاحِ معاشرہ اور مثبت تبدیلی کے لیے مسلسل کوشش کرنے کا درس دیتی ہے۔ ان کی خدمات اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ ایک فرد اپنی فکری بصیرت، محنت اور بلند مقصد کے ذریعے پورے معاشرے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے نشست کے اختتام پر اس عزم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ سر سید احمد خان کی تعلیمی، ادبی اور اصلاحی فکر کو صرف یاد کرنے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ان کے پیغام کو عملی زندگی میں اپنایا جائے۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ علم کو ترقی کا ذریعہ بنایا جائے، معاشرتی اصلاح کے لیے سنجیدہ کوشش کی جائے اور نئی نسل میں خود اعتمادی، تحقیق اور مثبت فکر کو فروغ دیا جائے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے