اسماعیل قمر بستوی
تمنّا ہے مدینے میں بسر یہ زندگی ہوتی
نہیں تاب قلم ہے جو لکھے کتنی خوشی ہوتی
میں حال دل سناتا احمد مختار کو اپنا
کسی دن روضۂ اقدس پہ میری حاضری ہوتی
دیارِ ساکن خضریٰ کو یہ آنکھیں ترستی ہیں
اگر دیدار ہوتا روشنی ہی روشنی ہوتی
وہاں روشن مرا گزرا ہوا ہر ایک دن ہوتا
مری ہر شب کو حاصل چاندنی ہی چاندنی ہوتی
درودِ پاک پڑھتا ان کے روضے کے قریں ہوکر
سلام یوں باادب کرتا نظر میری جھکی ہوتی
قریں ہوتامیں روضہ کےجہاں رحمت برستی ہے
میں سجدے میں پڑاہوتا اجل آکے کھڑی ہوتی
مقدر پہ یہ اپنے ناز کرتا عمر بھر شاعر
قمر گنبد پہ گر ان کے نظر میری پڑی ہوتی
