(منظوم)
رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی
الٰہی ظلم کا بادل جو چھٹ جائے تو اچھا ہے
کلیجہ شر پسندوں کا جو پھٹ جائے تو اچھا ہے
ڈبویا نیل میں فرعون کو پل بھر میں ہى تو نے
اگر دوزخ میں یہ فرعون جَھٹ جائے تو اچھا ہے
توہى قہّار ہے ، قہر و غضب ڈھا شر پسندوں پر
تعصّب، دشمنی گر جڑ سے کٹ جائے تو اچھا ہے
بنٹےہیں سینکڑوں ٹکڑوں میں تجھ کوماننے والے
اگر کھائی عداوت کى یہ پَٹ جائے تو اچھا ہے
تِرے محبوب کی امّت پہ ہے ظلم و ستم جاری
مقابل ظالموں کے آج ڈٹ جائے تو اچھا ہے
تِرے منکر بہت اِترا رہے ہیں اپنی طاقت پر
غرور ان کا اگر ٹکڑوں میں بٹ جائے تو اچھا ہے
دعائیں تجھ سے کرتا ہے تِرا بندہ رفیع یارب !
تِرا بندہ تِرے دیں سے لپٹ جائے تو اچھا ہے
