التجاحسین نور صدیقی
سب پر سرور چھایا ہے کیسا یہ عید کا
ہے امتیاز کچھ نہ قریب و بعید کا
راہِ خدا میں جان فدا جس نے کردیا
درجہ دیا ہے رب نے اسی کو شہید کا
فرعون کا چلے گا سکہ یہاں پہ اب
”آئین بن رہا ہے نظامِ جدید کا“
میری نظر میں ایسے بھی انسان ہیں ابھی
پرچم اٹھا رہے ہیں جو اب تک یزید کا
دنیا میں بےشمار کتابیں ضرور ہیں
ثانی نہیں ہے کوئی کلامِ مجید کا
میزانِ عدل حشر میں قائم جو ہوگی نور
کردار تولا جاۓ گا مرشد ، مرید کا
التجاحسین نور صدیقی
مقام مچکی پوسٹ برگدواکھکھری سدھارتھ نگریوپی
