✍️از: مـحـمد عـظیـم فیض آبـادی جـامعـہ محمـود دیـوبـند
ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ
اس وقت ملک میں چندریان 3 کے چاند پر صحیح سلامت لینڈنگ کی خوشی ومسرت کے اظہار کا ایک لامتناہی سلسلہ چل رہاہے اور خاص طور پر ہمارے طبقے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا شوق لگا ہوا ہے
اور میرا خیال ہے کہ بعض تو مخصوص پارٹی کی نظروں میں محض سرخرو ہونے کی تگ ودو میں اتاولے ہوئے جارہے ہیں ، بعضوں نے تو اس مقصد کےلئے نماز تک ادا کردی ، بعض نے صرف دعائیہ مجلس تک پر اکتفا کیا ،
اس میں کوئی شک نہیں کہ
یہ اسرو کے سائنس دانوں کا کمال اور ان کی انتھک محنتوں کا نتیجہ ہے اور سائنسی اعتبار سے کسی بھی ملک کا چاند تک پہنچ جانا بڑے فخر کی بات ہے، اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کی ترقی سے ملک کے ہر شہری کو فطری طور پر خوشی ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہئے
سوال یہ ہے کہ
اربوں کھربو روپئے خرچ کرکے چاند تک رسائی ہی کیا ترقی کا میعار ہے ؟ منی پور میں انسانیت دم توڑ رہی ہے ،
تین ماہ سے زائد عرصہ سے قتل وخون کا بازار گرم ہے ،خاندان کے خاندان تباہ ہو چکے ہیں ، ملک میں بے روزگاری عام ہے،
سیکڑوں لوگ ہر سال ماب لنچنگ میں مار دیئے جاتے ہیں ، ہزاروں خاندان فسادات میں اجاڑ دیئے جاتے ہیں ، نہ جانے کتنے کسان سال میں خود کشی کرتے ہیں ، سیکڑوں عورتوں کی عزتیں ہر سال نیلام ہوتی ہے ، رشوت کی مارا ماری ہے ، ملک قرض سے بوجھل ہوتا جارہاہے ، کرونا میں بدانتظامی سے مرتے ہوئے لوگ ، سڑتی اور گنگا میں بہتی ہوئی لاشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ، انصاف کرنے والے جج وافسران کا فوری تبادلہ کردیا جاتاہے ، پالیمنٹ واسمبلیوں میں کرمنل قسم کے مجرم لوگ منتخب ہوکر آرام سے آجاتے ہیں، عوام کے خون پسینے کی کمائی کے اربوں کھربوں ڈالر آرام سے بھگوڑے لے کر فرار ہوجاتے ہیں ، نفرت کا بازار گرم ہے بلکہ سرکاری سرپرستی حاصل ہے ، تعلیم کو تجارت بنادیاگیا ہے ، بھکھمری عام ، ہو رہی ہے ، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق آج بھی ملک میں اسّی 80 کڑور لوگ پانچ کلو سرکاری راشن کی بدولت جی رہے ہیں ، 77, سال میں بھی ملک کی ایک بڑی آبادی صاف پانی تک سے محروم ہے ، سرکاریں سرمایہ داروں کی غلام ہوتی جارہی ہیں ، تعلیم نظام اس قدر چوپٹ ہے کہ ملک کی ایک بڑی تعداد آج بھی بنیادی تعلیم سے محروم ہے، ذات پات کی جکڑ بندیوں میں اس طرح الجھاہے کہ نیچی ذات والا گھوڑی پر سوار نہیں ہوسکتا، مخصوص ذات ومذہب کے ماننے والے کے مکانات معمولی بات پر بھی بلڈوز کردیا جاتاہے ، قانون کی حکمرانی کا حال یہ ہے کہ غریب کے منہ پر پیشاب کردیاجائے ، جوتے چٹوائے جائیں ، علی الاعلان مسلمانوں کے قتل کی دھمکی دی جائے ،
تعصب اس قدر کہ حجاب ونقاب پوش عورتوں کو تعلیم سے محروم کرنے کےلئے قانون وضع کئے جارہے ہیں ، ایک ہی مذہب کے پیروکاروں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کےلئے کبھی مفروضہ لو جہاد کا بہانہ بناکر بدنام کیاجاتا ہے، کبھی اذان ونماز پر بند لگانے کو کوشش ہوتی ہے
مذہبی آزادی کو سلب کیا جارہا ہے ، ہمرا میڈیا ایک مخصوص ذہنیت کے مطابق کام کرتاہے ، مذہبی جلوس کے نام پر ریلیاں نکالی جاتی ہیں پھر غیر قانونی ہتھیاروں سے لیس بھیڑ مسجدوں پر پہنچ کر ننگا جاچ کرتی ہے اور بھگوا جھنڈا لہراکر نفرتی نعرے لگاتی ہے اور مخالفت کرنے پر قتل عام کرتی ہے اور پولیس تماشائی بنی رہتی ہے پھر مظلوم طبقہ کو چن چن گرفتار کیا جاتاہے اور گھروں کر مسمارکیا جاتاہے لیکن عدالتیں خاموش رہتی ہیں ، بھیڑ کو تلوار دیگر ہتھیار دے کر قتل عام پر اکسایاجاتاہے، پولیس کی موجودگی میں پنچایتیں ہوتی ہیں اور مسلمانوں کے بائکاٹ کا اعلان کیا جاتاہے، چلتی ٹرین میں مسلمان محفوظ نہیں،
مجرموں کا استقبال ہوتاہے ، زناکاریوں اور بلاتکاریوں کو سسنکاری بتا کر جرم معافی کا اعلان کیاجاتاہے
معلوم نہیں ان برائیوں سے نجات اور آئین کی بالادستی ، ملک میں امن وامان کا قیام ، ذات وپات کے جھمیلوں سے آزادی کا نام بھی کسی لغت میں ترقی ہے کہ بس چاند پر کمندیں ڈالنا ہی ترقی کی سب سے بڑی معراج ہے
جب تک زمینی اصلاحات نہ ہوں، عوام خوشحالی کی زندگی بسر نہ کرنے لگیں، ہرشہری کو امن و امان حاصل ہو ،ملک سے نفرت کا خاتمہ نہ ہوجائے
تب تک ترقی کی ڈفلی بجانا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں
اس لئے چاند پر جانے اور وہاں بستیاں بسانے کی جد وجہد سے زیادہ ضروری ہے کہ ملک کے زمینی نظام کو تہ وبالا ہونے سے بچایا جائے، ملک کی ایکتا اس کی جمہوریت کو مستحکم کیا جائے ، نفرت کے زہر کا تریاق ہو ، مذہب کے نام پر تفریق اور ذات پات کی سیاست سے ملک کو پاک کیا جائے، مذہبی آزادی کو مستحکم اور قانون کی حکمرانونی عدالتی نظام مضبوط ہو ، ملک مین بسنے والے ہر شہری کو کھانا کپرا مکان حاصل ہو ، اور فسادات کے لامتناہی سلسلے نجات کی سبیل ڈھونڈی جائے، ملک کا نظام تعلیم ونطام صحت دنیا کے لئے مثال بنے رشوت کا خاتمہ ہو یہی ترقی کا سب سے بڑا معیار ہوگا پھر چاند پر جانے کی خوشیاں دوبالا ہوگی
خدا کرے ملک ہر میدان میں ترقی کرے ، تمام شعبوں میں عروج حاصل ، ہر طرف امن وآمان کی فضاء ہموار ہو اور ملک جھوٹے مکار، بدعنوان لیڈوں کے ہاتھوں سے محفوظ ہو کر صاف ستھری شبیہ والے سیاست دانوں کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈورہو یہی سب سے بڑی ترقی ہے۔
