غزل

ستمبر 10, 2023

سید عزیز الرحمٰن عاجز

 

پورے، عالم پہ حکومت کے نہ ارماں ہوں گے

اس طرح آپ اگر دست گریباں ہوں گے

ان کو تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھو ہرگز

”ملک محفوظ رہے گا جو مسلماں ہوں گے“

آپ کے ساتھ اگر ماں کی دعاٸیں ہوں گی

جس جگہ جاٸیں گے ہرگز نہ پریشاں ہوں گے

صور پھونکے گا مَلَک بھی نہ قیامت کا کبھی

سینہ ٕ گیتی پہ جب تک کہ مسلماں ہوں گے

جس گھڑی سانس کی یہ ڈور بدن سے ٹوٹی

لوگ پھر لے کے گیے شہرِ خموشاں ہوں گے

سوچ کر خوب کریں گے ہی جو عاجز باتیں

بعد کہنے کے کبھی ہم نہ پشیماں ہوں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے