ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی
وہ گھر سے نکلا تھا جو دین کی بقا کے لئے
وہی ہے الاماں محور ہر اک بلا کے لئے
حسین پاک مرے زندگی کا مظہر ہیں
یزید نام ہے تمثیل بس فنا کے لئے
وہ بد نصیب نہ مانا حسین نے تو کہا
میں ابنِ زہرہ ہوں پہچان لے خدا کے لئے
میں کر ہی سکتا نہیں دنیا داری کی باتیں
زباں ہے وقف مری ذکرِ کربلا کے لئے
یزیدیو تم اسے موت سے ڈراتے ہو
جو زندگی ہی جیا ہو فقط قضا کے لئے
غضب ہے اس کو بہیمانہ مار ڈالا گیا
جو طولِ سجدہ کی وجہہ تھا مصطفٰی کے لئے
مرا مرض "ذکی” منت کشِ طبیب نہیں
ہے خاکِ کربلا مجھ کو بہت شفا کے لئے
