مکرمی!
آج ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے؟ کیا مال و زر کی؟ کیا سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی کی؟ کیا آمد ورفت کے وسائل میں کمی کی؟ کیا سپاہ و فوج کی ایک مضبوط ومستحکم اور ترقی یافتہ شعبہ کی؟ہر صاحب دل کا یہی جواب ہوگا کہ ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، آج ہمارا ملک چاند پر کمند ڈال چکا ہے اور اپنے سپر پاور ہونے کا دنیائے علم دانش اور فکر و فن سے داد و تحسین وصول کرچکاہے اور اپنا سکہ منوا چکاہے۔
ان سب ترقیات و ایجادات کے باوجود کمی ہے تو صرف اور صرف ایک چیز کی کمی ہے کہ آج ہمارے ملک سے اچھے شہری کا فقدان ہوتا جا رہاہے اور کوئی پیدا بھی نہیں کر رہاہے جس کا نتیجہ ہے امن و سکون غارت ہوچکاہے ، خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت ناپید ہوتی جارہی ہے ، قتل و غارتگری عام ہوچکی ہے۔
آج ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں کالج و یونیورسٹی موجود ہے مگر یہ سب اچھے شہری نہیں پیدا کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا ملک بربادی کے دہانہ پر کھڑا ہو چکاہے، ان حالات میں ہمارے ملک کو سب سے زیادہ ضرورت اس کا رخانہ کی ہے جو اچھے شہری پیدا کرے اور ملک سے پیارومحبت کا درس دے، جو صداقت و امانت داری کا سبق سکھائے، رشوت خوری، شراب نوشی، چور بازاری اور کرپشن سے نجات دلائے، آج ایسے کارخانہ کی ضرورت ہے جو ہمارے ملک کو ایسا انسان بنا کر دے جو ساری برائیوں سے پاک صاف اچھے شہری فراہم کرے، تبلیغی جماعت صرف واحد جماعت ہے جو ان ناگفتہ بہ حالات میں بھی ہمارے ملک میں ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں اچھے شہری فراہم کر رہاہے توپھر ایسی جماعت کی سرگرمیوں پر پابندی کیوں؟ آج ضرورت ہے اس جماعت کی ہمت افزائی کی جائے اس کے انمول کارنامے کو خراج تحسین پیش کیا جائے۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانہ میں
کہ اکبر نام لیتاہے خدا کا اس زمانہ میں
اے، کے ، رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
