اسماعیل قمر بستوی

اشک روضے پہ بہائیں تو بہائیں کیسے

ہاتھ خالی ہے وہاں جائیں تو جائیں کیسے

دل کا ارمان ہے روضے کی زیارت ہوتی

درد سینے کا دکھائیں تو دکھائیں کیسے

آپ ہیں فکرو تخیل میں بسے مدت سے

یاد سرور کی بھلائیں تو بھلائیں کیسے

آپ کے در کی رسائی کی دعا مانگی ہے

دل کی روداد سنائیں تو سنائیں کیسے

ہونٹ سوکھے ہیں مرے تشنہ لبی ہے اتنی

پیاس زم زم سے بجھائیں تو بجھائیں کیسے

قشقعۂ کعبۂ یزداں ہے نگاہوں میں بسا

سر وہاں جاکے جھکائیں تو جھکائیں کیسے

اے قمر ہند کہاں اور مدینہ ہے کہاں

اتنی دوری ہے مٹائیں تو مٹائیں کیسے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے